مسئلہ ۳: حمامی کے سامنے(1)کپڑے رکھ کر نہانے کو اندر گیا دوسرا شخص اندر سے نکلا اور اُس کے کپڑے پہن کر چلا گیاحمامی سے جب اُس نے کہا توکہنے لگا میں نے سمجھا تھا کہ اُسی کے کپڑے ہیں اِس صورت میں حمامی کے ذمہ تاوان ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اُن کے پاس کتاب رکھ کر چلا گیا اور وہ سب وہاں سے کتاب چھوڑ کر چلے گئے اور کتاب جاتی رہی اُن لوگوں کے ذمّہ تاوان واجب ہے اور اگر ایک ایک کرکے وہاں سے اُٹھے تو پچھلا شخص ضامن ہے کہ حفاظت کے لیے یہ متعین ہوگیا تھا۔(3) (بحر)
مسئلہ ۵: کسی مکان میں چیز بغیر اُس کے کہے رکھ دی اُس نے حفاظت نہیں کی چیز ضائع ہوگئی ضمان نہیں۔ یوہیں اس نے ودیعت کہہ کر دی اُس نے بلند آواز سے کہہ دیا میں حفاظت نہیں کروں گا وہ چیز ضائع ہوگئی اُس پر تاوان نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ودیعت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ مال اِس قابل ہو جو قبضہ میں آسکے لہٰذا بھاگے ہوئے غلام کے متعلق کہہ دیامیں نے اُس کو ودیعت رکھایا ہوا میں پرند اُڑرہا ہے اوس کو ودیعت رکھا ان کا ضمان واجب نہیں۔ یہ بھی شرط ہے کہ جس کے پاس امانت رکھی جائے وہ مکلّف ہو تب حفاظت واجب ہوگی اگر بچہ کے پاس کوئی چیز امانت رکھ دی اُس نے ہلاک کردی ضمان واجب نہیں اور غلام محجور(5)کے پاس رکھ دی اس نے ہلاک کردی توآزاد ہونے کے بعد اُس سے ضمان لیا جاسکتا ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷: ودیعت کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز مودَع کے پاس امانت ہوتی ہے اُس کی حفاظت مودَع پر واجب ہوتی ہے اور مالک کے طلب کرنے پر دینا واجب ہوتا ہے۔ ودیعت کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ودیعت ہلاک ہوجائے تو اس کا ضمان واجب نہیں۔(7) (بحر)