Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
31 - 186
    اور فرماتاہے:
    (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ وَتَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾)
 (1) 

    ''اے ایمان والو اﷲورسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں جان بوجھ کر خیانت کرو۔'' 

    حدیث صحیح میں ہے کہ منافق کی علامت میں یہ ہے کہ جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(2) 

    مسئلہ ۱: دوسرے شخص کو اپنے مال کی حفاظت پر مقرر کردینے کو ایداع کہتے ہیں اور اُس مال کو ودیعت کہتے ہیں جس کو عام طور پر امانت (3)کہا جاتا ہے جس کی چیز ہے اُسے مودِع اور جس کی حفاظت میں دی گئی اُسے مودَع کہتے ہیں ایداع کی دو صورتیں ہیں کبھی صراحۃً کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے یہ چیز تمھاری حفاظت میں دی اور کبھی دلالۃًبھی ایداع ہوتا ہے مثلاًکسی کی کوئی چیز گرگئی اور مالک کی غیر موجودگی میں لے لی یہ چیز لینے والے کی حفاظت میں آگئی اگر لینے کے بعد اُس نے چھوڑدی ضامن ہے اور اگر مالک کی موجودگی میں لی ہے ضامن نہیں۔ (4) 

    مسئلہ ۲: ودیعت کے لیے ایجاب وقبول ضروری ہیں خواہ یہ دونوں چیزیں صراحۃً ہوں یا دلالۃً۔ صراحۃً ایجاب مثلاًیہ کہے کہ میں یہ چیز تمھارے پاس ودیعت رکھتا ہوں امانت رکھتا ہوں۔ ایجاب دلالۃً یہ کہ مثلاً ایک شخص نے دوسرے سے کہا مجھے ہزار روپے دے دو، یہ کپڑا مجھے دے دو اُس نے کہا میں تم کو دیتا ہوں کہ اگر چہ دینے کا لفظ ہبہ کے واسطے بھی بولا جاتاہے مگرودیعت اُس سے کم مرتبہ کی چیز ہے اسی پر حمل کریں گے۔ اور کبھی فعل بھی ایجاب ہوتاہے مثلاً کسی کے پاس اپنی چیز رکھ کر چلا گیا اور کچھ نہ کہا۔ صراحۃً قبول مثلاً وہ کہے میں نے قبول کیا اور دلالۃً یہ کہ اُس کے پاس کسی نے چیز رکھ دی اور کچھ نہ کہا یاکہہ دیا کہ تمھارے پاس یہ چیز امانت رکھتا ہوں اور وہ خاموش رہا مثلاً حمام میں جاتے ہیں اور کپڑے حمامی کے پاس رکھ کراندر نہانے کے لیے چلے جاتے ہیں اور سرائے(5)میں جاتے ہیں بھٹیارے (6)سے پوچھتے ہیں گھوڑا کہاں باندھوں اُس نے کہا یہاں یہ ودیعت ہوگئی اُس کے ذمّہ حفاظت لازم ہوگئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے حفاظت کا ذمّہ نہیں لیا تھا۔ (7) (درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔پ۹،الأنفال:۲۷.

2۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاری''،کتاب الإیمان،باب علامۃ المنافق،الحدیث:۳۳،ج۱،ص۲۴.

3۔۔۔۔۔۔امانت اُسے کہتے ہیں جس میں تلف پر ضمان نہیں ہوتا ہے عاریت اور کرایہ کی چیز کو بھی امانت کہتے ہیں مگر ودیعت خاص اُس کا نام ہے جو 

حفاظت کے لیے دی جاتی ہے۔ ہم نے بیانات سابقہ میں ودیعت کو امانت اس لیے لکھا ہے کہ لوگ آسانی سے سمجھ لیں۔۱۲ منہ

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۶.

5۔۔۔۔۔۔مسافرخانہ۔        6۔۔۔۔۔۔مسافر خانے کامالک ۔

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۶.
Flag Counter