مسئلہ ۹: امین پر ضمان کی شرط کردینا کہ اگر یہ چیز ہلاک ہوئی تو تاوان لوں گا یہ باطل ہے۔ مودَع کو اختیار ہے کہ خود حفاظت کرے یا اپنی عیال سے حفاظت کرائے جیسے وہ خود اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے کہ ہر وقت اُسے اپنے ساتھ نہیں رکھتا اہل وعیال کے پاس چھوڑ کر باہر جایا کرتا ہے۔ عیال سے مُراد وہ ہیں جو اُس کے ساتھ رہتے ہوں حقیقۃً اُس کے ساتھ ہوں یا حکماً لہٰذا اگر سمجھ والے بچہ کو دے دی جو حفاظت پر قادر ہے یا بی بی کو دے دی اور یہ دونوں اُس کے ساتھ نہ ہوں جب بھی ضمان واجب نہیں یو ہیں عورت نے خاوند کی حفاظت میں چیز چھوڑدی ضامن نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: بی بی اور نابالغ بچہ یا غلام یہ اگر چہ اُس کے ساتھ نہ رہتے ہوں مگر عیال میں شمار ہوں گے فرض کرو یہ شخص ایک محلہ میں رہتا ہے اور اس کی زوجہ دوسرے محلہ میں رہتی ہے اور اُس کو نفقہ (3)بھی نہیں دیتا ہے پھر بھی اگر ودیعت ایسی زوجہ کو سپرد کردی اور تلف ہوگئی تاوان لازم نہیں ہوگا اور بالغ لڑکا یا ماں باپ جو اس کے ساتھ رہتے ہوں اِن کو ودیعت سپرد کرسکتا ہے اور ساتھ نہ رہتے ہوں تو نہیں سپرد کرسکتا کہ تلف ہونے پر ضمان لازم ہوگا۔ (4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: زوجہ کا لڑکا دوسرے شوہر سے ہے جبکہ اس کے ساتھ رہتا ہے تو عیال میں ہے اُس کے پاس ودیعت کو چھوڑ سکتا ہے۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جو شخص اس کی عیال میں ہے اُس کی حفاظت میں امانت کو اُس وقت رکھ سکتا ہے جب یہ امین ہو اور اگر اس کی خیانت معلوم ہو اور اس کے پاس چھوڑ دی تو تاوان دینا ہوگا۔ اس نے اپنی عیال کی حفاظت میں چھوڑدی اور وہ اپنے بال بچوں کی حفاظت میں چھوڑے یہ بھی جائز ہے۔ (6) (درمختار)