Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
30 - 186
    مسئلہ ۵: رب المال نے مال مضاربت کو واجبی قیمت (1)یا زائد پر بیع کرڈالا تو جائز ہے اور واجبی سے کم پر بیچا تو ناجائز ہے جب تک مضارِب بیع کی اجازت نہ دے دے۔(2) (عالمگیری)

    مسئلہ ۶: مضارِب اپنے چند ہمراہیوں کے ساتھ کسی سرا میں ٹھہرا اُن میں سے ایک یہیں حجرہ میں رہا باقی ساتھیوں کے ساتھ مضارِب باہَر چلاگیا کچھ دیر بعد یہ ایک بھی دروازہ کھلا چھوڑ کر چلاگیا اور مالِ مضارَبت ضائع ہوگیا اگر مضارِب کو اس پر اعتماد تھا تو مضارِب ضامن نہیں یہ ضامن ہے اور اگر مضارِب کو اس پر اعتماد نہ تھا تو خود مضارِب ضامن ہے۔ (3) (خانیہ)

    مسئلہ ۷: مضارِب کو ہزار روپے دیے کہ اگر خاص فلاں قسم کامال خریدو گے تو نفع جو کچھ ہوگا نصف نصف تقسیم ہوگا اور فلاں قسم کا مال خریدو گے تو کل نفع رب الما ل کا ہوگا اور فلاں قسم کا خریدو گے تو سا را نفع مضارِب کا ہوگا تو جیسا کہا ہے ویسا ہی کیا جائے گا یعنی قسم اول میں مضاربت ہے اور نفع نصف نصف ہوگا اور قسمِ دوم کا مال خریدا تو بضاعت ہے نفع رب المال کا اور نقصان ہوتو وہ بھی اُسی کا اور قسمِ سوم کا مال خریدا تو روپے مضارِب پر قرض ہیں نفع بھی اسی کا نقصان بھی اسی کا۔ (4) (عا لمگیری)
ودیعت کا بیان
ودیعت رکھنا جائز ہے قرآن وحدیث سے اس کا جواز ثابت ۔ 

اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
 (اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ)
 (5)

''اﷲ(عزوجل) حکم فرماتا ہے کہ امانت جس کی ہو اُسے دے دو۔'' 

اور فرماتا ہے:
 (وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہۡدِہِمْ رَاعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾)
 (6) 

''اور فلاح پانے والے وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہد کی رعایت رکھتے ہیں۔''
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔رائج قیمت جوبازارمیں متعین ہوتی ہے۔

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۷.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب المضاربۃ،فصل فیما یجوز للمضارب...إلخ،ج۲،ص۲۲۲.

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۷،۳۳۸.

5۔۔۔۔۔۔پ۵،النساء:۵۸.    6۔۔۔۔۔۔پ۱۸،المؤمنون:۸.
Flag Counter