Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
29 - 186
متفرق مسائل
    مسئلہ ۱: مضارِب کو روپے دیے کہ کپڑے خرید کر اُسے قطع کر کے سی کر فروخت کرے اور جو کچھ نفع ہوگا وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوجائے گا یہ مضارَبت جائز ہے یوہیں مضارِب سے یہ کہا کہ یہ روپے لو اور چمڑا خرید کر موزے یا جوتے طیار کرو اور فروخت کرو یہ مضاربت بھی جائز ہے۔ (1) (عالمگیری)

    مسئلہ ۲: ایک ہزار روپے مضاربت پر ایک ماہ کے لیے دیے اور کہہ دیا کہ مہینہ گزر جائے گا تو یہ قرض ہوگا تو جیسا اُس نے کہا ہے وہی سمجھا جائے گامہینہ گزر گیا اور روپے بدستور باقی ہیں تو قرض ہیں اور سامان خرید لیا تو جب تک انھیں بیچ کر روپے نہ کرلے قرض نہیں۔ (2) (عا لمگیری)

    مسئلہ ۳: مضارِب کو مالک نے پیسے دیے تھے کہ ان سے تجارت کرے ابھی سامان خریدا نہ تھا کہ اُن کا چلن بند ہوگیا مضاربت فاسد ہوگئی پھر اگر مضارِب نے ان سے سودا خرید کر نفع یا نقصان اُٹھایا وہ رب المال کا ہو گا اور مضارِب کو اُجرتِ مثل ملے گی اور اگر مضارِب کے سامان خریدلینے کے بعد وہ پیسے بند ہوئے تو مضاربت بدستور باقی ہے پھر سامان بیچنے کے بعد جو رقم حاصل ہوگی اس سے پیسوں کی قیمت رب المال کو ادا کرے اس کے بعد جو بچے اُسے حسبِ قرار داد تقسیم کیا جائے۔(3) (عالمگیری)

    مسئلہ ۴: باپ نے بیٹے کے لیے کسی شخص سے مضاربت پر مال لیا یوں کہ اِس مال سے بیٹے کے لیے باپ کام کریگا چنانچہ اُس نے کام کیا اور نفع بھی ہوا تو یہ نفع رب المال اور باپ میں حسب قرارداد تقسیم ہوگابیٹے کو کچھ نہیں ملے گا اگر بیٹا اتنا بڑا ہے کہ اس کے ہم جولی (4)خریدو فروخت کرتے ہیں اور باپ نے اس طور پر مال لیا ہے کہ لڑکا خریدو فروخت کریگا اور نفع آدھا آدھا دونوں کو ملے گا یہ مضاربت جائز ہے اور جو کچھ نفع ہوگا وہ رب المال اور لڑکے میں آدھا آدھا تقسیم ہوجائے گا۔ یوہیں اگر اس صورت میں لڑکے کے کہنے سے باپ نے کام کیا ہے تو آدھا نفع لڑکے کو ملے گا اور اُس کے بغیر کہے اس نے کام کیا تو مال کا ضامن ہے اور نفع اسی کو ملے گا مگر اسے صدقہ کردے۔ وصی کے لیے بھی یہی احکام ہیں۔ (5) (عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۴.

2 ۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۳۵.

4۔۔۔۔۔۔ہم عمر۔

5 ۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۷.
Flag Counter