Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
28 - 186
کسی کا ذکر نہ تھا اور مالک کہتا ہے میں نے خاص فلاں چیز کی تجارت کے لیے کہہ دیا تھا اس میں مضارِب کا قول معتبر ہے۔ اور اگر دونوں ایک ایک چیز کو خاص کرتے ہوں مضارِب کہتا ہے مجھے کپڑے کی تجارت کے لیے کہہ دیا تھا مالک کہتا ہے میں نے غلّہ کے لیے کہا تھا تو قول مالک کا معتبر ہے اور گواہ مضارِب کے۔ اور اگر دونوں کے گواہوں نے وقت بھی بیان کیا مثلاً مضارِب کے گواہ کہتے ہیں کہ کپڑے کی تجارت کے لیے رمضان میں کہا تھا اور مالک کے گواہ کہتے ہیں غلّہ کی تجارت کے لیے دیے تھے اور شوال کا مہینہ مقرر کردیا تھا تو جس کے گواہ آخروقت بیان کریں وہ معتبر۔(1) درمختار)

یہ اُس وقت ہے کہ عمل کے بعد اختلاف ہو اور اگر عمل کرنے سے قبل باہم اختلاف ہوا مضارِب عموم یا مطلق کا دعویٰ کرتا ہے اور رب المال کہتا ہے میں نے فلاں خاص چیز کی تجارت کے لیے کہا ہے تو رب المال کا قول معتبر ہے اِس انکار کے معنی یہ ہیں کہ مضارِب کو ہر قسم کی تجارت سے منع کرتا ہے۔ (2) (عالمگیری)

    مسئلہ ۹۶: مضارِب کہتا ہے میرے لیے آدھا یا تہائی نفع ٹھہرا تھا اور مالک کہتا ہے تمھارے لیے سو روپے ٹھہرے تھے یا کچھ شرط نہ تھی لہٰذامضاربت فاسد ہوگئی اور تم اُجرت مثل کے مستحق ہو اس میں رب المال کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔(3) (عالمگیری)

    مسئلہ ۹۷: وصی (4)نے نابالغ کے مال کو بطورِ مضارَبت خود لیا یہ جائز ہے بعض علماء اس میں یہ قید اضافہ کرتے ہیں کہ اپنے لیے اُتنا ہی نفع لینا قرار دیا ہو جو دوسرے کو دیتا۔(5) (درمختار)

    مسئلہ۹۸: مضارِب نے راس المال سے کوئی چیز خریدی ہے اور کہتا ہے اسے ابھی نہیں بیچوں گا جب زیادہ ملے گا اُس وقت بیع کروں گا اور مالک یہ کہتاہے کچھ نفع مل رہا ہے اسے بیع کر ڈالو مضارِب بیچنے پر مجبور کیا جائے گا ہاں اگر مضارِب یہ کہتا ہے میں تمھارا راس المال بھی دوں گا اور نفع کا حصہ بھی دوں گا اس وقت مالک کو اِس کے قبول پر مجبور کیا جائے گا۔ (6) (درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۴.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السابع عشرفی الإختلاف...إلخ،النوع الثانی،ج۴،ص۳۲۳.

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،النوع الثالث،ص۳۲۴.

4۔۔۔۔۔۔وہ شخص جسے مرنے والا اپنی وصیت پوری کرنے کے لیے مقررکرے۔

5 ۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۴.

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter