Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
27 - 186
(دونوں میں اختلاف کے مسائل)
    مسئلہ ۹۲: مضارِب کے پاس دو ہزار روپے ہیں اور کہتا یہ ہے کہ ایک ہزار تم نے دیے تھے اور ایک ہزار نفع کے ہیں اور رب المال یہ کہتا ہے کہ میں نے دو ہزار دیے ہیں اگر کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مضارِب کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور اگر اس کے ساتھ ساتھ نفع کی مقدار میں بھی اختلاف ہو مضارِب کہتا ہے کہ میرے لیے آدھے نفع کی شرط تھی اور رب المال کہتا ہے ایک تہائی نفع تمھارے لیے تھا تو اس میں رب المال کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور اگر دونوں میں سے کسی نے اپنی بات کو گواہوں سے ثابت کیا تو اُسی کی بات مانی جائے گی اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو راس المال کی زیادتی میں رب المال کے گواہ معتبرہیں اور نفع کی زیادتی میں مضارِب کے گواہ معتبر۔(1) (ہدایہ، درمختار)

    مسئلہ۹۳: مضارِب کہتا ہے راس المال میں نے تمھیں دے دیا اور یہ جو کچھ میرے پاس ہے نفع کی رقم ہے اس کے بعد پھر کہنے لگا میں نے تمھیں نہیں دیا بلکہ ضائع ہوگیا تو مضارِب کو تاوان دینا ہوگا۔ (2) (عالمگیری)

    مسئلہ۹۴: ایک ہزار روپے اُس کے پاس کسی کے ہیں مالک کہتا ہے یہ بطوربضاعت دیے تھے(3)اس میں ایک ہزار نفع ہوا ہے یہ خاص میرا ہے اور وہ کہتا ہے مضاربت بالنصف کے طور پر مجھے دیے تھے(4)لہٰذا آدھا نفع میرا ہے اِس صورت میں مالک کا قول معتبر ہے کہ یہی منکر ہے۔ یوہیں اگر مضارِب کہتا ہے کہ یہ روپے تم نے مجھے قرض دیے تھے لہٰذا کل نفع میرا ہے اور مالک کہتا ہے میں نے امانت یا بضاعت یا مضاربت کے طور پر دیے تھے اس میں بھی رب المال ہی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تومضارِب کے گواہ معتبر ہیں اور اگر مالک کہتا ہے میں نے قرض دیے تھے اور مضارِب کہتا ہے بطور مضاربت دیے تھے تو مضارب کا قول معتبر ہے اور جو گواہ قائم کردے اُس کے گواہ معتبر ہیں اور اگر دونوں نے گواہ پیش کیے تومالک کے گواہ معتبر ہوں گے۔ (5) (درمختار)

    مسئلہ ۹۵: مضارِب کہتا ہے تم نے ہر قسم کی تجارت کی مجھے اجازت دی تھی یا مضاربت مطلق تھی یعنی عام یا خاص
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی الإختلاف،ج۲،ص۲۱۱.

و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۲.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب السابع عشر فی الإختلاف...إلخ،النوع الرابع،ج۴،ص۳۲۵.

3۔۔۔۔۔۔یعنی سارا نفع میرے لئے مقرر تھا۔    4۔۔۔۔۔۔یعنی آدھا آدھا نفع مقرر تھا۔

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۳.
Flag Counter