Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
26 - 186
    مسئلہ ۸۹: مضارِب نے ایک چیز رب المال سے ہزارروپے میں خریدی جس کو رب المال نے پانسو میں خریدا تھااس کا مرابحہ پانسو پر ہوگا نہ کہ ہزار پر یعنی مرابحہ میں یہ بیع کالعدم سمجھی جائے گی۔ اسی طرح اس کا عکس یعنی رب المال نے مضارِب سے ایک چیز ہزارمیں خریدی جس کو مضارِب نے پانسومیں خریدا تھا تو مرابحہ پانسو پر ہوگا۔ (1) (ہدایہ)

بیع مرابحہ وتولیہ کے مسائل کتاب البیوع(2)میں مفصل مذکور ہوچکے ہیں وہاں سے معلوم کیے جائیں۔ 

    مسئلہ ۹۰: مضارِب کے پاس ہزار روپے آدھے نفع پر ہیں اس نے ہزار روپے کا کپڑا خریدا اور دو ہزار میں بیچ ڈالا پھر دو ہزار کی کوئی چیز خریدی اور ثمن ادا کرنے سے پہلے کل روپے یعنی دونوں ہزار ضائع ہوگئے پندرہ سو روپے مالک بائع کو دے اور پانسو مضارِب دے کیونکہ دو ہزار میں مالک کے پندرہ سو تھے اور مضارِب کے پانسو لہٰذا ہر ایک اپنے اپنے حصہ کی قدر بائع کو ادا کرے اس مبیع میں ایک چوتھائی مضارِب کی مِلک ہے کیونکہ ایک چوتھائی اس نے قیمت دی ہے اور یہ چوتھائی مضاربت سے خارج ہے اور باقی تین چوتھائیاں مضاربت کی ہیں اور راس المال کل وہ رقم ہے جو مالک نے دی ہے یعنی دو ہزار پانسو مگر مضارِب اس چیز کامرابحہ کریگا تو دوہی ہزار پر کریگا زیادہ پر نہیں کیوں کہ یہ چیز دو ہی ہزار میں خریدی ہے لیکن فرض کرو اس چیز کو دوچند قیمت پر اگر فروخت کیا یعنی چار ہزار میں تو ایک ہزار صرف مضارِب لے گا کہ چوتھائی کا یہ مالک تھا اور پچیس سو ۲۵۰۰ راس المال کے نکالے جائیں اور باقی پانسو دونوں نصف نصف تقسیم کرلیں یعنی ڈھائی ڈھائی سو۔ (3) (ہدایہ)

    مسئلہ ۹۱: مضارب نے راس المال سے ابھی چیز خریدی بھی نہیں کہ راس المال تلف (4)ہوگیا تو مضاربت باطل ہوگئی اور چیز خریدلی ہے اور ابھی ثمن ادا نہیں کیا ہے کہ مضارب کے پاس سے روپیہ ضائع ہوگیا رب المال سے پھر لے گا پھر ضائع ہو جائے تو پھر لے گا وعلیٰ ھٰذالقیاس (5)اور راس المال تمام وہ رقم ہوگی جو مالک نے یکے بعد دیگرے دی ہے بخلافوکیل بالشراء (6)کہ اگر اس کو روپیہ پہلے دے دیا تھا اور خریدنے کے بعد روپیہ ضائع ہوگیا تو ایک مرتبہ موکل سے لے سکتا ہے اب اگر ضائع ہوجائے تو موکل سے نہیں لے سکتا اور اگر پہلے وکیل کونہیں دیا تھا خریدنے کے بعد دیا اور ضائع ہوگیا تو اب بالکل موکل سے نہیں لے سکتا۔ (7) (ہدایہ، عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل آخر،ج۲،ص۲۱۰.

2۔۔۔۔۔۔بہارشریعت،جلد ۲،حصہ۱۱،بیع کابیان۔

3۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل آخر،ج۲،ص۲۱۰.

4۔۔۔۔۔۔ضائع۔    5۔۔۔۔۔۔یعنی روپیہ ضائع ہوتا رہے توپھر لیتا رہے گا۔    6۔۔۔۔۔۔خریدنے کا وکیل۔

7۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل آخر،ج۲،ص۲۱۱.

و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب الرابع عشر فی ہلاک مال المضاربۃ...إلخ،ج۴،ص۳۱۸،۳۱۹.
Flag Counter