مسئلہ ۷۵: مالک نے اپنے غلام اور اپنے جانور مضارِب کو بطور اِعانت سفر میں لے جانے کے لیے دے دیے اس سے مضاربت فاسد نہیں ہوگی اور غلاموں اور جانوروں کے مصارِف مضارِب کے ذمّہ ہیں مضارَبت سے ان کے اخراجات نہیں دیے جائیں گے اور مضارِب نے مال مضاربت سے ان پر صرف کیا (1)تو ضامن ہے مضارِب کو نفع میں سے جو حصہ ملے گا اُس میں سے یہ مصارف منھا ہوں گے(2)اور کمی پڑے گی تو اُس سے لی جائے گی اور مصارف سے کچھ بچ رہا تو اُسے دے دیا جائے گا ہاں اگر رب المال نے کہہ دیا کہ میرے مال سے ان پر صرف کیا جائے تو مصارف اُسی کے مال سے محسوب (3)ہوں گے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۶: ہزار روپے مضارِب کودیے تھے اُس نے کام کیا اور نفع بھی ہوا اور مالک مرگیا اور اُس پر اتنا دَین ہے جوکُل مال کو مستغرق (5)ہے تو مضارِب اپنا حصہ پہلے لے لے گا اس کے بعد قرض خواہ اپنے دَین وصول کریں گے اور اگر یہ مضاربت فاسد ہو تو مضارِب کو اُجرتِ مثل ملے گی اور وہ رب المال کے ذمّہ ہوگی جس طرح دیگر قرض خواہ اپنے دَین لیں گے یہ بھی حصہ رسد کے موافق(6) پائے گا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۷: خریدنے یا بیچنے پر کسی کو اجیر کیا یعنی نوکر رکھا یہ اجارہ درست نہیں کیونکہ جس کام پر اُس کو اجیر کرتا ہے اُس کے اختیار میں نہیں اگر خریدار نہ لے تو کس کے ہاتھ بیچے اور بائع نہ بیچے تو کیوں کر خریدے لہٰذا اسکے جواز کا طریقہ یہ ہے کہ مدّتِ معین کے لیے کام کرنے پر نوکر رکھے اور اس کام پر لگا دے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۷۸: مضارِب نے حاجت سے زیادہ صرفہ کیا ایسے مصارف کے لیے جو تجار کی عادت میں نہیں ہیں ان تمام مصارف کا تاوان دینا ہوگا۔ (9) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۹: اگر وہ شہر مضارِب کامولدنہیں ہے مگر وہیں کی سکونت(10)اُس نے اختیار کرلی ہے تو مالِ مضاربت