سے مصارف نہیں لے سکتا اور اگر وہاں نیت اقامت کرکے مقیم ہوگیا مگر وہاں کی سکونت نہیں اختیار کی ہے تو مال مضاربت سے وصول کریگا۔ یہاں پردیس جانے یا سفر سے مراد سفرِشرعی نہیں ہے بلکہ اتنی دور چلاجانا مراد ہے کہ رات تک گھر لوٹ کرنہ آئے اور اگر رات تک گھر لوٹ کر آجائے تو سفر نہیں مثلاً دیہات کے بازار کہ دوکاندار وہاں جاتے ہیں مگر رات میں ہی گھر واپس آجاتے ہیں۔(1) (بحر)
مسئلہ۰ ۸: ایک شخص دوسرے شہر کا رہنے والا ہے اور مال مضاربت دوسرے شہرمیں لیا مثلاً مراد آباد کا رہنے والا ہے اور بریلی میں آکر مال لیا تو جب تک بریلی میں ہے اُس کو مصارف نہیں ملیں گے اور جب بریلی سے چلا اب مصارف ملیں گے جب تک مراد آباد پہنچ نہ جائے۔ اور جب مراد آباد میں ہے یہ اُس کا وطنِ اصلی ہے یہاں نہیں ملیں گے اب اگر یہاں سے بغرض تجارت چلے گا توملیں گے بلکہ پھر بریلی پہنچ گیا اور کاروبار کے لیے جب تک ٹھہرے گا مصارف ملتے رہیں گے کیونکہ یہاں تجارت کے لیے ٹھہرنا ہے ہاں اگر بریلی بھی اُس کا وطن ہو مثلاً اُس کے بال بچے یہاں بھی رہتے ہیں،یہاں اُس نے شادی کرلی ہے تو جب تک یہاں رہے گا خرچ نہیں ملے گا کہ یہ بھی وطن ہے۔ (2) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۸۱: کسی شہر کو مال خریدنے گیا اور وہاں پہنچ بھی گیا مگر کچھ خریدا نہیں ویسے ہی واپس آیا تو اس صورت میں بھی مصارف مال مضاربت سے ملیں گے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۲: مالک نے مضارِب سے کہہ دیا تھا کہ تم اپنی رائے سے کام کرو اور مضارِب نے کسی دوسرے کو مضاربت کے طور پر مال دے دیا یہ مضارِبِ دوم ا گر سفر کریگا تو مصارف مال مضاربت سے ملیں گے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۸۳: مضارِب کچھ اپنا مال اور کچھ مال مضاربت دونوں کو لے کر سفر میں گیا یا اس کے پاس دو شخصوں کے مال ہیں اِن صورتوں میں بقدر حصہ دونوں پر خرچہ ڈالا جائے گا۔ (5) (درمختار)