بدستور سابق باقی ہے اور اگر مالک نے مضارِب کی بغیر اجازت مال لے کر خریدو فروخت کی تو مضاربت باطل ہوگئی اگر راس المال نقد ہو اور اگر راس المال سامان ہو اُس کو بغیر اجازت لے گیا اور اس کو سامان کے عوض میں بیع کیا تو مضاربت باطل نہیں ہوئی اور اگر روپے اشرفی کے بدلے میں بیچ دیا تو باطل ہوگئی۔ (1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۷۲: مضارِب نے رب المال کو مضاربت کے طور پر مال دیا یہ جائز نہیں یعنی یہ دوسری مضاربت صحیح نہیں ہے اور وہ پہلی مضارَبت حسب دستور باقی ہے۔ (2) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۳: مضارِب جب تک اپنے شہر میں کام کرتا ہے کھانے پینے اور دیگر مصارِف(3)مال مضاربت میں نہیں ہوں گے بلکہ تمام اخراجات کا تعلق مضارِب کی ذات سے ہوگا اور اگر پردیس جائے گا تو کھانا پینا کپڑا سواری اور عادۃً جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے متعلق تاجروں کاعرف ہویہ سب مصارِف مالِ مضارَبت میں سے ہوں گے دوا و علاج میں جو کچھ صرف ہوگا وہ مضاربت سے نہیں ملے گا یہ اُس صورت میں ہے کہ مضاربت صحیح ہو اور اگر مضاربت فاسد ہوتو پردیس جانے کے بعد بھی مصارِف اُس کی ذات پر ہوں گے مال مضاربت سے نہیں لے سکتا اور بضاعت (4)کے طور پر جو شخص کام کرتا ہو اُس کے مصارف بھی نہیں ملیں گے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۴: مصارف میں سے کپڑے کی دُھلائی اور اگر خود دھونا پڑے تو صابن بھی ہے ،اگر روٹی پکانے یا دوسرے کام کرنے کے لیے آدمی نوکر رکھنے کی ضرورت ہو تو اس کا صرفہ(6)بھی مضاربت سے وصول کیا جائے گا جانور کا دانہ چارہ بھی اسی میں سے ہوگا اور سواری کرایہ کی ملے کرایہ پر لی جائے اور خریدنے کی ضرورت پڑے مثلاً روز روز کا کام ہے کہاں تک کرایہ پر لے گا یا کرایہ پر ملتی نہیں ہے خریدلے دریائی سفر میں کشتی کی ضرورت ہے کرایہ پر یا مول لے بعض جگہ بدن میں تیل کی مالش کرانی ہوتی ہے اس کا صرفہ بھی ملے گا۔ (7) (ہدایہ)