مضاربت کو پہلی مضارَبت سے کوئی تعلّق نہیں ہے مضارِب کو نقصان سے بچنے کی یہ اچھی ترکیب ہے۔ (1)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: راس المال دینے کے بعد نفع کی تقسیم ہوئی مگر مالک کا حصہ بھی مضارِب ہی کے پاس رہا اُس نے ابھی قبضہ نہیں کیا تھا کہ یہ رقم ضائع ہوگئی توتنہا مالک کا حصہ ضائع ہونانہیں تصوّر کیا جائے گا بلکہ دونوں کا نقصان قرار پائے گا لہٰذامضارِب کے پاس نفع کی جو رقم ہے اُسے دونوں تقسیم کرلیں اور اگر مضارِب کا حصہ ضائع ہواتو یہ خاص اسی کا نقصان ہے کیونکہ یہ اپنے حصہ پر قبضہ کرچکاتھا اس کی وجہ سے تقسیم نہ توڑی جائے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۸: نفع کے متعلق جو قرارداد ہو چکی ہے مثلاً نصف نصف یا کم و بیش اس میں کمی زیادتی کرنا جائز ہے مثلاً رب المال نے نصف نفع لینے کو کہا تھا اب کہتا ہے میں ایک تہائی ہی لوں گا یعنی مضارِب کا حصہ بڑھا دیا یوہیں مضارِب اپنا حصہ کم کردے یہ بھی جائز ہے اِسی جدید قرارداد پر نفع کی تقسیم ہوگی اگر چہ نفع اس قرارداد سے پہلے حاصل ہوچکا ہو۔(3) (عا لمگیری)
مسئلہ ۶۹: وقتاً فوقتاً مضارِب سے سو ، پچاس ، دس ، بیس روپے لیتا رہا اور دیتے وقت مضارِب یہ کہتا تھا کہ یہ نفع ہے اب تقسیم کے وقت کہتا ہے نفع ہوا ہی نہیں وہ جو میں نے دیا تھا راس المال میں سے دیا تھا مضارِب کی بات قابل قبول نہیں۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۷۰: مالک نے مضارِب سے کہا میرا راس المال مجھے دے دو جو باقی بچے تمھاراہے اگر مال موجود ہے اِس طرح کہنا ناجائز ہے یعنی مضارِب مابقی(5)کا مالک نہ ہوگا کہ یہ ہبہ مجہولہ(6)ہے اور ایسا ہبہ جائز نہیں اور مضارِب صرف(7)کرچکا ہے تو یہ کہنا جائز ہے کہ اپنا مطالبہ معاف کرنا ہے اور اسکے لیے جہالت مضر نہیں۔ (8)
(عا لمگیری)
مسئلہ ۷۱: مضارِب نے رب المال کو کچھ مال یا کل مال بضاعت کے طور پر دے دیا ہے کہ وہ کام کریگا مگر اس کام کا اُسے بدلہ نہیں دیا جائے گا اور رب المال نے خرید و فروخت کرنا شروع کردیا اس سے مضاربت پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ