Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
20 - 186
اس صورت میں تاوان دینا ہوگاکہ اس کی اُسے اجازت نہ تھی۔(1) (ہدایہ، درمختار)

    مسئلہ۶۴: مضارَبت میں نفع کی تقسیم اُس وقت صحیح ہوگی کہ راس المال رب المال کو دے دیا جائے راس المال دینے سے قبل تقسیم باطل ہے یعنی فرض کرو کہ راس المال ہلاک ہوگیا تو نفع واپس کرکے راس المال پورا کریں اس کے بعد اگر کچھ بچے توحسبِ قرارداد تقسیم کرلیں مثلاً ایک ہزار راس المال ہے اور ایک ہزارنفع۔ پان پانسو دونوں نے نفع کے لے لیے اور راس المال مضارب ہی کے پاس رہا کہ اس سے وہ پھر تجارت کریگایہ ہزار ہلاک ہوگئے کام کرنے سے پہلے ہلاک ہوئے یا بعد میں، بہرحال مضارب پانسو کی رقم رب المال کو واپس کردے اور خرچ کرچکا ہے تو اپنے پاس سے پانسو دے، کہ یہ رقم اور رب المال جو لے چکا ہے وہ راس المال میں محسوب(2)ہے اور نفع کاہلاک ہونا تصور ہوگا اور دو ہزارنفع کے تھے ایک ایک ہزار دونوں نے لیے تھے اسکے بعد راس المال ہلاک ہوا توایک ہزار جو مالک کو ملے ہیں ان کو راس المال تصور کیا جائے اور مضارب کے پاس جو ایک ہزار ہیں وہ نفع کے ہیں اِن میں سے رب المال پانسو وصول کرے۔(3) (عالمگیری)

    مسئلہ ۶۵: راس المال لے لینے کے بعد تقسیم صحیح ہے یعنی اب کوئی خرابی پڑے تو تقسیم پر اس کا کچھ اثر نہ ہوگا مثلاً راس المال لے لینے کے بعدنفع تقسیم کیا گیا پھر وہی راس المال مضارب کو بطور مضاربت دے دیا تو یہ جدید مضاربت ہے کہ مضارب کے پاس راس المال ہلاک ہو تو پہلی تقسیم نہیں توڑی جائے گی۔ (4) (عالمگیری)

    مسئلہ۶۶: رب المال و مضارِب دونوں سال پر یا ششماہی یا ماہوار حساب کرکے نفع تقسیم کرلیتے ہیں اور مضاربت کوحسبِ دستور باقی رکھتے ہیں اس کے بعد کُل مال یا بعض مال ہلاک ہوجائے تو دونوں نفع کی اتنی اتنی مقدار واپس کریں کہ راس المال پورا ہوجائے اور اگرسارا نفع واپس کرنے پر بھی راس المال پورا نہیں ہوتا تو سارا نفع واپس کر کے مالک کودے دیں اس کے بعد جو اور کمی رہ گئی ہے اُس کا تاوان نہیں اور اگر نفع کی رقم تقسیم کرنے کے بعدمضاربت کو توڑ دیتے ہیں اگر چہ یہ تقسیم راس المال ادا کرنے سے قبل ہوئی ہو اس کے بعد پھر جدید عقد کرکے کام کرتے ہیں توجو نفع تقسیم ہوچکا ہے وہ واپس نہیں لیا جاسکتا بلکہ جتنا نقصان ہوگا وہ نفع کے بعد راس المال ہی پر ڈالا جائے گا کیوں کہ اِس جدید
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی العزل والقسمۃ،ج۲،ص۲۰۷.

و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۴.

2۔۔۔۔۔۔شمار۔

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السادس عشر فی قسمۃ الربح،ج۴،ص۳۲۱.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter