حدیث ۲: امام احمد نے جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم نے: ''جس شخص نے اپنے مولیٰ کے سوا دوسرے سے موالاۃ کی، اُس نے اسلام کا پٹا اپنے گلے سے نکال دیا۔''(1)
حدیث ۳: طبرانی وابن عد ی ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ فرمایا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے:''جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے، اُس کی وَلا اُسی کے لیے ہے۔''(2)
حدیث ۴: اصحاب سنن اربعہ وامام احمد وحاکم وغیرہم نے تمیم داری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال ہوا کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا؟ فرمایا کہ ''وہ سب سے زیادہ حقدار ہے، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔'' (3)
مسئلہ ۱: ایک شخص عاقل بالغ کسی کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوا اس نومسلم نے اُس سے یا کسی دوسرے سے موالاۃ کی یعنی یہ کہا کہ اگر میں مرجاؤں تو میرا وارث تو ہے اور مجھ سے کوئی جنایت ہو تو دیت تجھے دینی ہوگی اُس نے قبول کرلیا یہ موالاۃ صحیح ہے اسکا نام مولَی الموالاۃ ہے اور دونوں جانب سے بھی موالاۃ ہوسکتی ہے یعنی ہر ایک دوسرے سے کہے کہ تو میرا وارث ہوگا اور میری جنایت کی دیت دے گا اور دوسر اقبول کرے۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ مولیٰ عرب میں سے نہ ہو۔(4) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲: نابالغ مشرف بَاِسلام ہوااور اُس نے موالاۃ کی یہ ناجائز ہے اگرچہ اپنے باپ یا وصی کی اجازت سے کی ہواور بالغ عاقل نے نابالغ عاقل سے موالاۃ کی اور اس کے باپ یا وصی نے اجازت دیدی ہو تو موالاۃ جائز ہے۔ یوہیں اگر غلام نے موالاۃ کی تو اُس کے مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے، وہ جائز کردیگا جائز ہوگی، ورنہ نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: جس شخص سے اس نے موالاۃ کی ہے اب یہ (مولیٰ اسفل)اس وَلا کو فسخ کرنا چاہتا ہے تو اُس کی موجود گی میں فسخ کرسکتا ہے یعنی اُس کوعلْم ہوجانا ضروری ہے کیونکہ یہ عقد غیر لازم ہے تنہا فسخ کرسکتا ہے دوسرے کی رضامندی ضروری