نہیں۔ اور اگر دوسرے سے موالاۃ کرلی تو پہلی موالاۃ فسخ ہوگئی اس میں علم کی ضرورت نہیں کہ دوسرے سے عقد کرنے ہی سے پہلی موالاۃ خود بخود فسخ ہوگئی مگر شرط یہ ہے کہ اُس نے ا سکی طرف سے دیت ادا نہ کی ہواور اگر اُس نے کسی معاملہ میں دیت دیدی ہے تو اب نہ فسخ کرسکتا ہے نہ دوسرے سے موالاۃ کرسکتا ہے بلکہ اس کی اولاد کی طرف سے اگر اُس نے دیت دے دی جب بھی فسخ نہیں کرسکتا نہ دوسرے سے موالاۃ کرسکتا ہے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: موالاۃ کرنے کے وقت جو اس کے نابالغ بچے ہیں یا اس عقد کے بعد جو پید ا ہوئے سب اس ولا میں داخل ہیں بالغ اولادوں سے اس عقد کاتعلق نہیں یعنی یہ دوسرے سے موالاۃ کرسکتے ہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵:مولَی العتاقہ یعنی وہ غلام جسے مولیٰ(مالک)نے آزاد کردیا ہے وہ دوسرے سے موالاۃ نہیں کرسکتا۔(3)(ہدایہ)
مسئلہ ۶: موالاۃ کا حکم یہ ہے کہ اگر جنایت کرے تو دیت لازم ہوگی اور اُن میں سے کوئی مر جائے تو دوسرا وارث ہوجاتا ہے مگر اس کا مرتبہ تمام وارثوں سے مؤخر ہے جب کوئی وارث نہ ہو یعنی ذوی الارحام بھی نہ ہو ں تو یہ وارث ہوگا۔(4)(ہدایہ)
مسئلہ ۷: عورت نے موالاۃ کی یا موالاۃ کا اقرار کیا اور اس کے ساتھ کوئی بچہ مجہول النسب ہے یاموالاۃ کے بعد پیدا ہوا یہ بچہ بھی عقد موالاۃکے حکم میں داخل ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۸: مرد نے اسلام قبول کرکے ایک شخص سے موالاۃ کی اور عورت نے اسلام لاکر دوسرے سے موالاۃ کی توان دونوں سے جو بچہ پیدا ہوگا اُس کاتعلق باپ کے مولیٰ سے ہوگا ماں کے مولیٰ سے نہیں ہوگا۔(6) (عالمگیری)