سپرد کردیا مگر وکیل نے ایک مدت تک موکل کو نہیں دیا اور موکل نے وکیل سے مانگا بھی نہیں تو مالک مکان وکیل سے کرایہ وصول کریگا کیونکہ عقد کے حقوق وکیل ہی کے ذمہ ہوتے ہیں اور وکیل موکل سے وصول کریگا کیونکہ وکیل کا قبضہ موکل ہی کا قبضہ ہے اور اگر موکل نے وکیل سے طلب کیا وکیل نے کہا کہ پیشگی اُجرت دے دو تو مکان پر قبضہ دوں گا اور موکل نے نہ اُجرت دی نہ وکیل نے قبضہ دیا تو اس صورت میں وکیل نے کرایہ جو دیا ہے موکل سے وصول نہیں کرسکتا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: مفتی فتویٰ لکھنے کی یعنی تحریر و کتابت کی اُجرت لے سکتاہے نفس فتویٰ کی اُجرت نہیں لے سکتا اس کا مطلب یہ ہے کہ کاغذ پراُتنی عبارت کسی دوسرے سے لکھواؤ تو جو کچھ اس کی اُجرت عرفاًدی جاتی ہے وہ مفتی بھی لے سکتا ہے کیونکہ مفتی کے ذمہ زبانی جواب دینا واجب ہے لکھ کر دینا واجب نہیں مگر اُجرتِ تحریر لینے سے بھی اگر مفتی پرہیز کرے تویہی بہتر کہ خواہ مخواہ لوگوں کو چہ میگوئی (2)کرنے کا موقع ملے گا۔(3) (درمختار)لو گ یہ کہیں گے کہ فتوے کی اُجرت لی اور فلاں شخص روپیہ لے کر فتوے دیتا ہے وغیرہ وغیرہ اس سے نظر عوام میں فتوے کی بے وقعتی ہوتی ہے اور مفتی کی بھی بے عزتی ہے اور علماء کو خصوصیت کے ساتھ ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے خصوصاً اس زمانہ میں کہ جاہل مولویوں نے اس قسم کے رکیک(4)افعال کرکے علماء کو بدنام کررکھا ہے ان کے افعال کو علماء کے افعال قرار دیکر طبقہ علماء کو بدنام کیا جاتا ہے۔
مسئلہ ۱۹: اُجرت پر خط لکھوانا جائز ہے جبکہ کاغذ کی مقدار اور کتنا لکھا جائے گا یہ بیان کردیا ہو۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: مستاجر پریہ دعویٰ نہیں ہوسکتا کہ ہم نے یہ چیز خریدی ہے یا اجارہ پرلی ہے یا ہمارے پاس رہن(6) رکھی گئی ہے لہٰذا یہ چیز ہم کوملنی چاہیے کیونکہ مستاجر مالک نہیں ہے کہ اُس پر عین کا دعوےٰ ہوسکے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: اِجارہ یا فسخِ اِجارہ کی اضافت زمانہ مستقبل کی طرف ہوسکتی ہے کہہ سکتا ہے کہ آئندہ مہینہ کے شروع سے تم کو اجارہ پر دیا یا ختم ما ہ سے اجارہ فسخ کردیا۔(8) (درمختار)