مکان وقف ہے یا یتیم کا ہے یا کرایہ ہی پر دینے کے لیے ہے تو غاصب(1)اگرچہ اُجرت دینے سے انکار کرے اُسے کرایہ دینا ہوگا۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: زمین جو کاشتکار کے پاس ہے اور اُسے نہیں چھوڑتا اور مالک یہ چاہتا ہے کہ اگر یہ چھوڑدے تو میں دوسرے کوزیادہ لگان(3)پر دیدوں مالک اُس سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر تو نے نہیں خالی کی تو اتنا لگان لوں گا اس صورت میں یہ اضافہ اس کے لیے جائز ہو جائے گا
مسئلہ ۱۴: کام کرنے والے نے کہہ دیا کہ اس اُجرت پر میں کام نہیں کروں گا میں تو اتنا لوں گا اور کام کرانے والا خاموش رہا وہی اُجرت دینی ہوگی جو کاریگر نے بتائی۔ پھر اُجرت دینے کے وقت جب اجیر نے زیادہ کا مطالبہ کیااور یہ کہا کہ میں کہہ چکا تھا کہ میں اتنے پر نہیں کروں گا اور کام لینے والا کہتا ہے میں نے نہیں سنا تھا کہ تونے یہ کہا اگر یہ شخص بہرا ہے تو خیر ورنہ اُسی مزدور کی بات مقبول ہوگی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: مستاجر کرایہ کی چیز دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے مثلاً ایک مکان کرایہ پر لیا اور دوسرے کو کرایہ پر دیدے یہ ہوسکتا ہے یازمین زراعت کے لیے لگان پر لی دوسرے کاشتکار کو لگان پر دیدے یہ ہوسکتا ہے جیسا کہ اکثر بڑے شہروں میں ایک شخص پورامکان کرایہ پر لے کر دوسرے لوگوں کو ایک ایک حصہ کرایہ پر دیتا ہے یا دیہات میں کاشتکار زمین دوسروں کو دیا کرتے ہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: مستاجر خودمالک کو وہ چیز کرایہ پر دے یہ جائز نہیں اگرچہ بالواسطہ ہو مثلاًزیدنے اپنا مکان عَمْرْو کو کرایہ پر دیا عمرو نے بکر کو دیابکر یہ چاہے کہ زید کو کرایہ پر دیدوں یہ نہیں ہوسکتا رہا یہ کہ مالک کو کرایہ پر دینے سے وہ پہلا اجارہ جو مالک اور مستاجر کے مابین ہے باقی رہے گا یافسخ ہو جائے گافتویٰ اس پر ہے کہ وہ اجارہ بدستور باقی رہے گا فسخ نہیں ہوگا مگر وہ چیز جتنے زمانہ تک اس صورت میں مالک کے پاس رہے گی اِس مدت کا کرایہ مستاجر کے ذمہ واجب نہیں ہوگا۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: ایک شخص نے دوسرے کو اجارہ پر لینے کے لیے وکیل کیا وکیل نے اجارہ کیا اور مالک نے وہ مکان وکیل کو