Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
175 - 186
    مسئلہ ۳۱: مالک کے مرنے کے بعد کرایہ دار مکان میں رہتا رہا تو جب تک وارث مکان خالی کرنے کے لیے نہ کہے گایادوسری اُجرت کا مطالبہ نہ کریگا اجارہ کافسخ ہونا ظاہر نہ ہوگا اگر وارث نے خالی کرنے کو کہا معلوم ہوا کہ اُس عقد پر راضی نہیں ہے اور اگر دوسری اُجرت طلب کی جب بھی معلوم ہوا کہ عقد سابق کے حکم کو توڑنا چاہتا ہے اور جدیدعقد کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا وارث کے کہنے سے پہلے یاخالی کرنے کو جو کہا ہے اس سے پہلے جتنے دن رہا اُسی حساب سے اُجرت دے گا جو مورث سے طے ہوئی اور اس کہنے کے بعد جتنے دن رہے گا اُس کی اُجرت مثل واجب ہوگی۔ (1)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۲: مالک زمین مرگیا اور کھیت ابھی طیارنہیں ہے تو وہی اُجرت دی جائے گی جو طے پاچکی ہے اور اگر مدت اجارہ ختم ہوچکی اور فصل طیارنہیں ہوئی تو جب تک کھیت نہ کٹے گا اُس وقت تک کی اُجرت مثل دلائی جائے گی۔(2) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۳: مالک کے مرنے کے بعد وارث اور مستاجر اجارہ سابقہ کے باقی رہنے پر راضی ہو جائیں یہ جائز ہے یعنی تعاطی کے طور پر ان کے مابین اُسی اُجرت سابقہ پر جدید اجارہ قرار پائے گا یہ نہیں کہ وہی پہلا اجارہ باقی رہے کیونکہ وہ تو مالک کے مرنے سے ختم ہوگیا۔ (3)(درمختار) 

    مسئلہ ۳۴: دوموجر ہیں یا دومستاجر، ان میں سے ایک مرگیا تو جو مرگیا اُس کے حصہ کا اجارہ فسخ ہے اور جو زندہ ہے اُس کے حصہ میں اجارہ باقی ہے اور اگرچہ یہاں شیوع پیدا ہوگیا مگر چونکہ طاری ہے اجارہ کے لیے مضر نہیں۔ (4)(درمختار) 

    مسئلہ ۳۵: آج کل بعض لوگ دوامی اجارہ کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اجارہ موجرو مستاجر کے ورثہ میں منتقل ہوتارہے گا موت سے بھی وہ فسخ نہ ہوگا یہ اجارہ فاسد ہے اسی طرح اجارہ میں ایسے شرائط ذکر کیے جاتے ہیں جو مقتضائے عقد (5)کے مخالف ہوتے ہیں وہ اجارے فاسد ہیں۔ 

    مسئلہ ۳۶: اس زمانہ میں ایک صورت اجارہ کی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اجارہ کاایک معتدبہ زمانہ (6) گزر نے کے بعدمستاجر اُس چیز پر زبردستی قابض ہوجاتا ہے کہ مالک چاہے بھی تو تخلیہ نہیں کراسکتا(7)۔ اس کی مثال کا شتکاری کی زمین ہے کہ مالک زمین یعنی زمیندار کاشتکار سے اپنی زمین کو واپس نہیں لے سکتانہ کسی کے مرنے سے یہ اجارہ فسخ ہوتاہے(8)بلکہ اس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، مطلب:ارادۃ السفر...إلخ،ج۹،ص۱۴۲.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، ج۹،ص۱۴۳.

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۱۴۳.    4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۱۴۷

5۔۔۔۔۔۔ تقاضہ عقد۔             6۔۔۔۔۔۔ اک عرصہ دراز۔

7۔۔۔۔۔۔یعنی قبضہ نہیں چھڑا سکتا۔        8۔۔۔۔۔۔ختم ہوجاتاہے۔
Flag Counter