یادعوت ولیمہ کے لیے باور چی کو کھانا پکانے کے لیے مقرر کیا اور دولہن کا انتقال ہوگیا اجارہ فسخ ہوگیا کہ ان صورتوں میں وہ غرض ہی باقی نہ رہی جس کے لیے اجارہ کیا تھا۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۱۳: جس عقد اجارہ پر عمل کرناشرع کے خلاف نہ ہو مگر اجارہ باقی رکھنے میں کچھ نقصان پہنچے گاتووہ خود بخودفسخ نہیں ہوگا بلکہ فسخ کرنے سے فسخ ہوگا پھراس میں دوصورتیں ہیں کہیں تو عذر ظاہر ہوگااور کہیں مشتبہ حالت ہوگی اگر عذربالکل ظاہر ہے جب تو وہ صاحب عذر خودہی فسخ کرسکتا ہے اور مشتبہ حالت ہوتو رضا مندی یا حکم قاضی سے فسخ ہوگا۔ (2)(ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: عیب کی وجہ سے اُسی وقت اجارہ کو فسخ کیا جاسکتا ہے جب منفعت فوت ہوتی ہو مثلاًمکان منہدم ہوگیا پن چکی کا پانی ختم ہوگیا کھیت کے لیے پانی نہ رہا کہ زراعت ہوسکے اور اگر ایسا عیب ہے کہ بلامضرت(3)منفعت حاصل کی جاسکتی ہو تو فسخ کرنے کے لیے یہ عذر نہیں مثلاًخدمت گار کی ایک آنکھ جاتی رہی یا اُس کے بال گرگئے یا مکان کی ایک دیوار گرگئی مگر سکونت کے لیے یہ مضر نہیں۔(4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: تھوڑا سا پانی ہے کہ تمام کھیتوں کی آب پاشی نہیں کرسکتا مزارع (5)کو اختیار ہے اگر چاہے کل کااجارہ فسخ کردے اور نہیں فسخ کیا تو اُس پانی سے جتنے کھیت کی آبپاشی کرسکتا ہے اُن کالگان(6)واجب ہے باقی کا نہیں۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: پن چکی کا پانی بند ہوگیا اور وہ پن چکی والا مکان سکونت کے قابل بھی ہے جس میں کرایہ دار کی سکونت رہی اور عقد اجارہ میں سکونت بھی داخل تھی تو اگرچہ چکی کا کرایہ نہیں دینا ہوگا مگر سکونت کا کرایہ دینا ہوگا یعنی کرایہ کا جتنا حصہ سکونت کے مقابل ہے وہ دینا ہوگا۔(8) (درمختار، ردالمحتار)