تواب مستاجر کو فسخ کرنے کااختیار نہ رہا۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۹: بیل کرایہ پرلیا تھاکہ اس سے روزانہ اتنا کھیت جوتا جائے گا یا چکی میں اتنا آٹا پیسا جائے گا اب دیکھا تو اُس بیل سے اتنا کام نہیں ہوسکتا مستاجر کو اختیار ہے کہ اُسے رکھے یا واپس کردے اگر رکھے گا تو پوری اُجرت دینی ہوگی واپس کریگاجب بھی اُس دن کا کرایہ پورا دینا ہوگا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: چند قطعات زمین (3)ایک عقد سے اجارہ پرلیے اور بعض کو دیکھا نا پسند آیا سب کا اجارہ فسخ کرسکتا ہے کیونکہ یہاں ایک ہی عقد ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: جس اجارہ میں مستاجر کو اپنی کوئی چیز بغیر عوض ہلاک کرناہوتا ہے بغیر عذر بھی مستاجر کو ایسا اجارہ فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً کتابت یعنی لکھنے پر اجارہ کیا تو لکھوانے والے کو کاغذ اور کاتب کو روشنائی خرچ کرنی ہوگی یا زراعت کے لیے زمین کو اجارہ پر لیاہے کھیت بونے میں غلہ زمین میں ڈالنا ہوگا۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جس غرض کے لیے اجارہ ہوااگر وہ غرض ہی باقی نہ رہی یا شرعاً ایسا عذر پید ا ہوگیا کہ عقد اجارہ پر عمل نہ ہوسکے توان صورتوں میں اجارہ بغیر فسخ کیے خود ہی فسخ ہو جائے گا مثلاًکسی عضو میں زخم ہے جو سرایت کررہا ہے اندیشہ ہے کہ اگر اس عضو کو نہ کاٹا گیا تو زیادہ خرابی پید ا ہوجائے گی یا دانت میں درد تھااور جراح (6)یا ڈاکٹر سے عضو کاٹنے یا دانت اوکھاڑنے کے لیے اجارہ کیا مگر اس کے عمل سے قبل زخم اچھا ہوگیا اور دانت کا درد جاتا رہا اجارہ فسخ ہوگیا کہ یہاں شرعاًعمل ناجائز ہے کیونکہ بلاوجہ عضو کا ٹنا یا دانت اوکھاڑنا درست نہیں۔ یاکسی نے اپنے مدیون کی تلاش کرنے کے لیے جانور کرایہ پر لیا اُس کو خبر ملی تھی کہ وہ فلاں جگہ ہے یا کوئی لڑکا یاجانور بھاگ گیا ہے اُس کو تلاش کرنے کے لیے سواری کرایہ کی اور جانے سے پہلے مدیون یا و ہ بھاگا ہوا خود ہی آگیا اجارہ فسخ ہوگیا کہ اب وہاں جانے کا سبب ہی باقی نہ رہا۔ یا اس کو گمان ہواکہ مکان کی عمارت کمزور ہوگئی ہے کہیں گرنہ پڑے کسی شخص کو گرانے کے لیے اجیر کیا پھر معلوم ہواکہ عمار ت میں کوئی خرابی نہیں ہے اجارہ فسخ ہوگیا۔