مسئلہ ۱۷: مکان کی مرمت، اُس کی چھت پر مٹی ڈلوانا، کھپر یل چھوانا(1)، پرنالہ درست کرانا، زینہ درست کرانا، روشن دان میں شیشہ لگانا اور مکان کے متعلق ہر وہ چیز جو سکونت کے لیے مُخِل(2)ہو ٹھیک کرنا مالک مکان کے ذمہ ہے اگر مالک مکان ٹھیک نہ کرائے تو کرایہ دار مکان چھوڑ سکتا ہے ہاں اگربوقت اجارہ مکان اسی حالت میں تھا اور دیکھ بھال کر کرایہ پرلیا تو فسخ نہیں کرسکتا کہ کرایہ دار ان عیوب پرراضی ہوگیا۔(3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: کرایہ کے مکان میں کوآں ہے اُس میں سے مٹی نکلوانے کی ضرورت ہے مٹی پٹ جانے کی وجہ سے(4)پانی نہیں دیتا یامرمت کرانے کی ضرورت ہے یہ بھی مالک کے ذمہ ہے مگر مالک کوان کاموں پرمجبور نہیں کیاجاسکتا اور اگر کرایہ دارنے ان کاموں کو خود کرلیا تو مُتَبَرِّع ہے مالک سے معاوضہ نہیں لے سکتا نہ کرایہ سے یہ مصارف وضع کرسکتا ہے یہ البتہ ہے کہ اگر مکان والا ان کاموں کو نہ کرے تویہ مکان چھوڑ سکتا ہے۔ چہ بچہ(5)یا نالیوں کو صاف کرانا کرایہ دار کے ذمہ ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: کرایہ دارنے مکان خالی کردیا دیکھاگیا تو مکان میں مٹی،خاک ،دھول، راکھ، پڑی ہوئی ہے ان کو اوٹھوانا اور صاف کراناکرایہ دار کے ذمہ ہے اور چہ بچہ پٹا پڑا (7)ہے تو اس کو خالی کرانا کرایہ دار کے ذمہ نہیں۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: دومکان ایک عقد میں کرایہ پر لیے تھے ان میں سے ایک گرگیا کرایہ دار دوسرے کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: مالک مکان کے ذمہ دَین (10)ہے جس کا ثبوت گواہوں سے ہویا خود اُس کے اقرار سے اور اُ سکے پاس اس مکان کے سوا کوئی دوسرا مال نہیں جس سے دَین ادا کیا جائے تو اجارہ فسخ کرکے اس مکان کو بیچ کردَین ادا کیا جائے گا۔ یوہیں اگرمالکِ مکان مفلس ہوگیا اُس کے لیے اور بال بچوں کے لیے کچھ کھانے کو نہیں ہے اس مکان کو بیچ سکتا ہے قاضی اس بیع کے