بعد اجارہ فسخ (1)کرنے کا اُسے خیا ر حاصل ہے اور اگر پہلے کسی وقت میں اس مکان کو دیکھ چکا ہے تو خیار رویت نہیں مگر جبکہ اُس میں کوئی حصہ منہدم ہوگیا (2)ہے جو سکونت کے لیے مضر ہے(3)تواب دیکھنے کے بعد اجارہ کو فسخ کرسکتا ہے۔ (4)(عالمگیری)یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ جن کاموں میں محل کے اختلاف سے اختلاف ہوتا ہے اُن میں چیز کو دیکھنے کے بعد اجیر کو اختیار ہوتا ہے جیسے کپڑے کا دھونا یا سینا۔
مسئلہ ۵: روئی دھنکنے(5)کے لیے نداف (6)سے طے کیاکہ اتنی روئی کی یہ مزدوری ہوگی اس کو دیکھنے کے بعد نداف کو اختیار نہیں ہوگا ہاں اگر طے کرنے کے وقت اس کے پاس روئی ہی نہیں ہے تو اجارہ صحیح ہی نہ ہوا۔ یوہیں دھوبی سے تھان دھونے کے لیے طے کیا اور تھان اس کے پاس نہیں ہے تو اجارہ جائز نہیں ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: اجارہ میں مستاجر کو خیار عیب بھی ہوتا ہے جس طرح بیع میں مشتری (8)کو خیار عیب ہوتا ہے مگر بیع میں اگر قبضہ کے بعد عیب ظاہر ہوا تو جب تک بائع(9)راضی نہ ہو یا قاضی حکم نہ دیدے مشتری واپس نہیں کرسکتا اور قبضہ سے قبل تنہا مشتری واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور اجارہ میں قبل قبضہ اور بعد قبضہ دونوں صورتوں میں مستاجر واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے نہ مالک کی رضا مندی کی ضرورت ہے نہ قاضی کے حکم کی ضرورت۔(10) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مکان کرایہ پر لیا اور اُس میں کوئی عیب ہے جو سکونت کے لیے ضرررساں ہے مثلاً اُس کی کوئی کڑی(11)ٹوٹی ہوئی ہے یا عمارت کمزور ہے تو واپس کرسکتا ہے۔ یوہیں اگر قبضہ کرنے کے بعد اس قسم کا عیب پیدا ہوگیا تو اجارہ فسخ کرسکتا ہے۔ (12)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مستاجر نے باوجود عیب کے اُس چیز سے نفع اُٹھایا توپوری اُجرت دینی ہوگی یہ نہیں ہوسکتا کہ نقصان کے مقابل میں کچھ اُجرت کم کرے اور اگر مالک نے چیز میں جو کچھ نقصان تھا اُسے زائل کردیا مثلاً مکان ٹوٹا پھوٹا تھا ٹھیک کرادیا