Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
167 - 186
تو اس میں بھی کپڑے والے کا قول معتبر ہے مگر جبکہ اُس شخص کا یہ پیشہ ہے اور اُجرت پر کام کرنا معروف ومشہور ہے اور اُس کا حال یہی بتاتا ہے کہ اُجرت پر کام کرتا ہے کہ دکان اُس نے اسی کام کے لیے کھول رکھی ہے تو ظاہر حال یہی ہے کہ اُجرت پر اس نے کام کیا ہے لہٰذا قسم کے ساتھ اسی کا قول معتبر ہے۔(1) (درمختار) 

    مسئلہ ۷: ابھی کام کیا ہی نہیں ہے اور یہی اختلافات ہوئے تو دونوں پر حلف ہے(2)اور پہلے مستاجر پر قسم دی جائے گی۔ قسم کھانے سے جو انکار کریگا اُس کے خلاف فیصلہ ہوگا اور دونوں نے قسمیں کھالیں تو عقد فسخ کردیا جائے گا۔ (3)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۸: ایک چیز اُجرت پر لی ہے اور ابھی اُس میں تصرف بھی نہیں کیا ہے کہ مالک اور مستاجر میں اختلاف ہوگیا مستاجر کہتا ہے اُجرت پانچ روپے ہے اور مالک دس روپے بتاتا ہے جو گواہ پیش کرے اُس کے موافق حکم ہوگا اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو مالک کے گواہ پر فیصلہ ہوگا اور اگر کسی کے پاس گواہ نہیں تو دونوں پر حلف ہے اور مستاجر سے پہلے قسم کھلائی جائے اگر دونوں قسم کھاجائیں اجارہ کو فسخ کردیا جائے۔(4) (خانیہ) 

    مسئلہ ۹: مدت اجارہ یا مسافت کے متعلق اختلاف ہے اس کا بھی وہی حکم ہے مگر اس صورت میں مالک کو پہلے قسم دی جائے اور دونوں گواہ پیش کریں تو مستاجر کے گواہ معتبر ہوں گے۔(5) (خانیہ) 

    مسئلہ ۱۰: مدت اور اُجرت دونوں باتوں میں اختلاف ہے مستاجر کہتا ہے دو مہینے کے لیے میں نے دس روپے کرایہ پرمکان لیا ہے اور مالک کہتا ہے ایک ما ہ کے لیے بیس روپے پر اگر دونوں گواہ پیش کریں تو جس کے گواہ زیادہ بتاتے ہیں اُس کی بات معتبر ہے یعنی دوماہ کے لیے بیس روپے پر اجارہ قرار دیا جائے اور اگر کچھ مدت تک اِنتفاع کے بعد(6) اختلاف ہوا یا کچھ مسافت طے کرلینے کے بعد اختلاف ہوا تو دونوں پر حلف دیکر آئندہ کے متعلق اجارہ فسخ کردیا جائے اور گزشتہ کے متعلق مستاجر کاقول مانا جائے۔(7) (خانیہ)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۷.

2۔۔۔۔۔۔قسم اُٹھاناہے۔

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۷.

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الإجارات، فصل فی الاختلاف ،ج۳،ص۴۲.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

6۔۔۔۔۔۔نفع اٹھانے کے بعد۔

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الإجارات، فصل فی الاختلاف ،ج۳،ص۴۲،۴۳.
Flag Counter