Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
166 - 186
کیونکہ اگرچہ یہ اجارہ اس وقت نا جائز ہے مگر کا م کرنے کے بعد صحیح ہو جائے گا اسی وجہ سے اِس صورت میں جو اُجرت مقرر ہوئی ہے وہ پوری دلائی جاتی ہے۔ (1)(درمختار)
موجِر اور مستاجر کے اختلافات
    مسئلہ ۱: پن چکی کرایہ پر دی ہے مستاجر کہتا ہے نہر میں پانی تھاہی نہیں اس وجہ سے پن چکی چل نہ سکی لہٰذا کرایہ دینا مجھ پر لازم نہیں اور چکی کا مالک کہتا ہے پانی تھا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر گواہ نہ ہوں تو اِس وقت جوحالت ہو اُسی کے موافق زمانہ گزشتہ کے متعلق حکم دیا جائے گا اگر پانی اس وقت ہے تو مالک کی بات مانی جائے گی اور نہیں ہے تو مستاجر کی بات معتبر ہے اور جس کی بات بھی معتبر ہوگی قسم کے ساتھ معتبر ہوگی۔(2) (درمختار) 

    مسئلہ ۲: پن چکی کا پانی کچھ دنوں بند رہا مگر کتنے دنوں بند رہا اس میں موجر(3) اور مستاجر (4)دونوں کا اختلاف ہے مستاجر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی۔(5) (درمختار) 

    مسئلہ ۳: پن چکی کرایہ پر دی اور یہ شرط کردی کہ پانی رہے یا نہ رہے ہر صورت میں کرایہ دینا ہوگااس شرط کی وجہ سے اجارہ فاسد ہوگا اور جن دنوں میں پانی نہ تھا اُ ن کا کرایہ واجب نہ ہوگا پانی جاری رہنے کے زمانے کی اُجرت مثل واجب ہوگی۔ (6)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۴: کپڑا سینے کو دیا تھا یہ کہتا ہے میں نے قمیص سینے کو کہا تھادرزی کہتا ہے اچکن سینے کو کہا تھا یا رنگنے کو دیا یہ کہتاہے میں نے سُرخ رنگنے کو کہا تھا رنگریز کہتا ہے زرد رنگنے کے لیے کہاتھا تو کپڑے والے کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور جب اُس نے قسم کھائی تو اختیار ہے کہ اپنے کپڑے کا تاوان لے یا اسی کو لے لے اور اُجرت مثل دیدے۔(7) (ہدایہ) 

    مسئلہ ۵: اگر مالک کہتا ہے میں نے مفت سینے یا رنگنے کے لیے دیا تھا اور سینے والا یا رنگنے والا کہتا ہے اُجرت پر دیا تھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۴.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۱۲۶.

3۔۔۔۔۔۔پن چکی کے مالک۔    4۔۔۔۔۔۔پن چکی کو کرایہ پرلینے والے۔

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۶.

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴، ص۴۲۱.

7۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب الإختلاف فی الإجارۃ ،ج۲،ص۲۴۶.
Flag Counter