نہ ہو توذورحم محرم(1)جس کی پرورش میں وہ بچہ ہے دے سکتا ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۸: ذو رحم محرم نے بچہ کو اجارہ پر دیا اور وہ بچہ اُسی کی پرورش میں ہے توجوکچھ مزدوری ملی ہے اُس بچہ پر خرچ نہیں کرسکتا جس طرح بچہ کو کسی نے ہبہ کیا تووہ رشتہ دار ہبہ کوقبول کرسکتا ہے مگر بچہ پر اُسے خرچ نہیں کرسکتا۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۹: قاضی نے اگر حکم دیدیا ہے کہ جو کچھ یہ بچہ کماکر لائے حسب ضرورت اس پر خرچ کیا جائے اُس وقت خرچ کرنا جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: باپ دادا یا ان کے وصی یا قاضی نے نابالغ کو اجارہ پر دیا اور مدت اجارہ ختم ہونے سے پہلے وہ بالغ ہوگیا تو اس کو اختیار ہے کہ اجارہ کو باقی رکھے یا فسخ کردے اور اگر نابالغ کی کسی چیز کو اُنھوں نے اجارہ پر دیدیا ہے اور مدت پوری ہونے سے پہلے یہ بالغ ہوگیا تو اجارہ فسخ نہیں کرسکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: نابالغ کو اُس کے باپ نے کھانے کپڑے پرایک سال کے لیے نوکر رکھوادیا جب مدت پوری ہوئی تو اُجرت مثل کامطالبہ کرسکتا ہے کیونکہ جو اجارہ منعقد کیا تھا وہ بوجہ اُجرتِ مجہول(6)ہونے کے فاسد ہے اور سال بھر تک جو مستاجرنے(7)لڑکے کو کھلایا ہے یہ تبرّع ہے اس کو منھا نہیں کیاجاسکتا(8)البتہ جو کپڑے اُ سکے پاس اس کے دیے ہوئے ہوں اُن کو واپس لے سکتا ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: نابالغ لڑکا جس کو ولی نے منع کر دیا ہے اُس نے اُجرت پر کام کرنے کے لیے عقد کیا یہ اجارہ نا جائز ہے مگر کام کرنے کے بعد پوری اُجرت کا مستحق ہوگا اور اگر اُس کام میں ہلاک ہوگیا تو دیت واجب ہوگی۔(10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: مستاجر نے بچہ کو جس نے بغیر اِذنِ ولی عقد اجارہ کیا ہے پیشگی اُجرت دیدی یہ اُجرت واپس نہیں لے سکتا