Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
164 - 186
خدمت کے لیے اجارہ اور نابالغ کو نوکر رکھنا
    مسئلہ ۱: مرد اپنی خدمت کے لیے عورت کو نوکر رکھے یہ ممنوع ہے وہ عورت آزاد ہویاکنیز دونوں کاایک حکم ہے کہ کبھی دونوں تنہائی میں بھی ہوں گے اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت (تنہائی)کی ممانعت ہے۔(1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲: عورت نے ایسے شخص کی ملازمت کی جو بال بچوں والا ہے اس میں حرج نہیں جیسا کہ عموماً ہندوستان میں کھانا پکانے اور گھر کے کاموں کے لیے مامائیں نوکر رکھی جاتی ہیں مگر یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ مرد کو اس کے ساتھ تنہائی نہ ہو۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳: اپنی عورت کواپنی خدمت کے لیے نوکر رکھے یہ نہیں ہوسکتا کہ عورت پر ،خود ہی اپنے شوہر کی خدمت واجب ہے پھر نوکر ی کے کیا معنی اسی وجہ سے گھر کے جتنے کام عورتیں عموماً کیا کرتی ہیں مثلاً پیسنا ،پکانا،جھاڑو دینا ،برتن دھونا، وغیرہا ان پر اپنی عورت سے اجارہ نہیں ہوسکتا۔ (3) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۴: (کوئی بدنصیب)اگر اپنے والدین یا دادا ،دادی کو خدمت کے لیے نوکررکھے یہ اجارہ ناجائز ہے مگر انہوں نے اگر کام کرلیا تو اُجرت کے مستحق ہوں گے اور وہی اُجرت پائیں گے جو طے ہوچکی ہے اگرچہ اُجرت مثل اس سے کم ہو۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵: ان کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کو مثلاً بھائی یا چچا وغیرہ کو خدمت کے لیے نوکرکھنا جائز ہے، مگر بعض نے فرمایا کہ بڑے بھائی یا چچا کو جو عمر میں بڑا ہے، ملازم رکھنا جائز نہیں۔ (5)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۶: مسلمان نے کافر کی خدمت گاری کی نوکری کی یہ منع ہے بلکہ کسی ایسے کام پر کافر سے اجارہ نہ کرے جس میں مسلم کی ذلت ہو۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۷: باپ اپنے نابالغ لڑکے کو ایسے کام کے لیے اُجرت پر دے سکتا ہے جس کے کرنے کی اُسے طاقت ہو اور باپ نہ ہوتو اوس کا وصی ،یہ بھی نہ ہوتو دادا، اور دادا بھی نہ ہو تو اُس کا وصی نابالغ کو اجارہ پر دے سکتا ہے اور اگر ان میں کوئی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الحادی عشر فی الاستئجارللخدمۃ،ج۴،ص۴۳۴.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الحادی عشر فی الاستئجارللخدمۃ،ج۴،ص۴۳۴،۴۳۵،وغیرہ.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۴۳۵.    5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.
Flag Counter