مسئلہ ۱: درزی سے کہا اگر اس کپڑے کی اچکن(1)سیوگے تو ایک روپیہ سیلائی اور شیروانی سی تو دوروپے یہ صورت جائز ہے جو سی کر لائے گااُس کی سلائی پائے گا۔ یوہیں رنگریز(2)سے کہا کہ اِس کپڑے کو کسم(3)سے رنگوگے تو ایک روپیہ اور زعفران سے رنگو تودو۲روپے۔ اسی طرح اگر یہ کہا کہ اس مکان میں رہو گے تو پانچ روپے کرایہ کے ہیں اور اُس میں رہو گے تو دس ۱۰روپے یہ بھی جائز ہے۔ اگر تانگہ والے سے کہا کہ فلاں جگہ تک لے جاؤگے تو ایک روپیہ کرایہ اور فلاں جگہ تو دوروپے یہ بھی جائز ہے ان سب میں جو صورت پائی گئی اُسی کی اُجرت دی جائے گی۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲: درزی سے کہا اگر آج سی کر دیا تو ایک روپیہ اور کل دیا تو آٹھ آنے۔ اُس نے آج ہی سی کر دے دیا تو ایک روپیہ دینا ہوگا دوسرے دن دے گا تو اُجرت مثل واجب ہوگی جو آٹھ آنے سے زیادہ نہ ہوگی۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۳: اگر درزی سے یہ کہا ہے کہ آج سی دے گا تو ایک روپیہ اور کل سیا تو کچھ اُجرت نہیں اگر آج سیا تو ایک روپیہ ملے گا اور دوسرے دن سیا تو اُجرت مثل ملے گی جو ایک روپیہ سے زائد نہ ہوگی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: درزی سے کہا اگر تم نے خود سیا تو ایک روپیہ اور شاگرد سے سلوایا تو آٹھ آنے یہ بھی جائز ہے جس نے سیا اُس کے لیے جو مزدوری مقرر ہے وہ ملے گی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: جس طرح دو چیزوں میں اختیار دیا جاسکتا ہے تین چیز و ں میں بھی ہوسکتا ہے چار چیزوں میں اختیار دیا یہ ناجائز ہے۔ (8)(ہدایہ)
مسئلہ ۶: اس دکان یا مکان میں اگر تم نے عطار کو رکھا تو ایک روپیہ کرایہ اورلوہار کو رکھا تو دو روپے یہ بھی جائز ہے۔ (9)(ہدایہ)