Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
157 - 186
توایسا نہ ہوتا۔ یوہیں اگرچرواہے کے مارنے یا ہانکنے سے جانور ہلاک ہویا اُس کے مارنے سے آنکھ پھوٹ گئی یا کوئی عضو ٹوٹ گیا تو اس کا بھی تاوان واجب ہے۔ (1)(ردالمحتار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰: کشتی میں آدمی سوار تھے اور ملاح کشتی کوکھینچ کر لیجارہاتھا کشتی ڈوب گئی اور آدمی ہلاک ہوگئے یا جانور پر آدمی سوارہے اور جانور کا مالک اُسے ہانک کریاکھینچ کر لے جارہا تھا آدمی گر کر ہلاک ہوگیا ان صورتوں میں ضمان واجب نہیں۔(2)(درمختار) 

    مسئلہ ۱۱: حمال برتن میں کوئی چیز لیے جارہا تھا اور راستہ میں برتن ٹوٹا اور چیز ضائع ہوئی تومالک کو اختیار ہے کہ جہاں سے لارہا تھا وہاں اُس چیز کی جو قیمت تھی وہ تاوان لے اور اس صورت میں مزدوری کچھ نہیں یا جہاں ٹوٹا وہاں کی قیمت تاوان لے اور اس صورت میں یہاں تک کی مزدوری حساب کرکے دیدے ۔(3) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۲: راستہ میں آدمیوں کا ہجوم تھا مزدور کو دھکا لگا اور چیز ضائع ہوئی تو مزدور پر ضمان نہیں اور اگر مزدور ہی نے مزاحمت کی اس وجہ سے نقصان ہوا تو ضمان ہے۔(4) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۳: مکان تک مزدور نے سامان پہنچادیامالک اُس کے سر سے اُتر وارہا تھا چیز دونوں کے ہاتھ سے چھوٹ کر گری اور ضائع ہوئی نصف قیمت مزدور سے تاوان میں لی جائے۔ (5)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۴: کشتی پر سامان لادکر وہاں تک پہنچادیا جہاں لیجانا تھا مگر مخالف ہوا سے کشتی وہیں چلی آئی جہاں سے گئی تھی یا کہیں اور چلی گئی اگر سامان کا مالک یااس کا وکیل کشتی میں موجود تھا تو کرایہ واجب ہے۔ اور ملاح کو اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ پھر وہاں پہنچائے کیونکہ اُ سکا کام پورا ہوچکا ہاں اگرکشتی ایسی جگہ ہے جہاں چیز پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا تو ملاح کو لوٹا کرلانا ہوگا اور اس کی بھی مزدوری دی جائے گی اور اگر مالک یا اس کا وکیل کشتی میں نہ تھا تو ملاح کو اُسی پہلی اُجرت میں چیز پہنچانی ہوگی کہ ابھی اس کاکام ختم نہیں ہوا۔(6) (عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مطلب:یفتی بالقیاس علی قولہ،ج۹،ص۱۱۲.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۰۱.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۱۵.

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.        4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۰۱.

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۵۰۳.
Flag Counter