طے ہوگیا تھا کپڑا دیکھ کر انکار کرسکتا ہے کہ بعض کپڑے کے رنگنے میں زیادہ محنت ہوتی ہے اور زیادہ رنگ خرچ ہوتا ہے۔ یوہیں درزی بھی کپڑا دیکھ کر سینے سے انکار کرسکتا ہے کیونکہ بعض کپڑوں کے سینے میں زیادہ محنت ہوتی ہے مگر دیکھنے کے بعد راضی ہوگیا تو اب انکار کی گنجائش نہ رہی۔ اگر کام ایسا ہے کہ محل کے اختلاف سے اُس میں اختلاف نہ ہو تو انکار کی گنجائش نہیں مثلاً من بھر گیہوں تولنے کے لیے اجیر کیا یا حجامت بنانے کے لیے طے کیا دیکھنے کے بعد وہ انکار نہیں کرسکتا۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اجیر مشترک کے پاس چیز امانت ہوتی ہے اگر ضائع ہو جائے ضمان واجب نہیں اگرچہ چیز دیتے وقت یہ شرط کردی ہو کہ ضائع ہوگی تو ضمان لوں گا کہ یہ شرط باطل ہے۔ (2)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۶: اجیر مشترک کے فعل سے اگر چیز ضائع ہوئی تو تاوان واجب ہے مثلاً دھوبی نے کپڑا پھاڑدیا اگرچہ قصداً نہ پھاڑا ہو چاہے اُسی نے خود پھاڑا یا اُس نے دوسرے سے دھلوایا اُس نے پھاڑا بہر حال تاوان واجب ہے اور اس صورت میں دھلائی کا بھی مستحق نہیں۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: حمال سامان لاد کر لارہا ہے پاؤں پھسلا اور سامان ٹوٹ پھوٹ گیا اس پر بھی ضمان واجب ہے یاجانور پر سامان لادکر لارہا تھا جانور پھسلا اور سامان برباد ہوااس میں بھی ضمان واجب ہے اور اگر رسی کے ٹوٹ جانے سے سامان گر کر ضائع ہوا اس میں بھی ضمان واجب مگر جبکہ رسی خود سامان والے کی ہوتو تاوان نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: کشتی پر سامان لدا ہواہے ملاح(5)کشتی کھینچ کر لارہا تھا کشتی اس کے کھینچنے سے ڈوب گئی ضمان واجب ہے اور اگر مخالف ہوا یا موج دریا سے یا پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوبی تو ضمان واجب نہیں۔ (6)(ہدایہ ، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: چرواہا جانوروں کو تیزی سے ہانک کر لے جارہاتھاپل پر جب جانور پہنچے آپس کے دھکے سے کوئی جانور گرگیایا دریا کے کنارے ایک نے دوسرے کو دھکا دیا وہ پانی میں گرکر مرگیا چرواہے کو تاوان دینا ہوگا کہ اُس نے تیز نہ بھگایا ہوتا