اجیر دو قسم کے ہیں: اجیر مشترک و اجیر خاص۔ اجیر مشترک وہ ہے جس کے لیے کسی وقت خاص میں ایک ہی شخص کا کام کرنا ضروری نہ ہو اُ سوقت میں دوسرے کا بھی کام کرسکتا ہو، جیسے دھوبی، خیاط(1)، حجام، حمال (2)وغیرہم جو ایک شخص کے کام کے پابند نہیں ہیں اور اجیر خاص ایک ہی شخص کا پابند ہوتا ہے۔
مسئلہ ۱: کام میں جب وقت کی قید نہ ہو اگرچہ وہ ایک ہی شخص کا کام کرے یہ بھی اجیر مشترک ہے مثلاًدرزی کو اپنے گھر میں کپڑے سینے کے لیے رکھا اور یہ پابندی نہ ہوکہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک سیے گا اور روز انہ یا ماہوار یہ اُجرت دی جائے گی بلکہ جتنا کام کریگااُسی حساب سے اُجرت دی جائے گی تو یہ اجیر مشترک ہے۔ یوہیں اگر وقت کی پابندی ہے مگر دوسرے کا بھی اس وقت میں کام کرنے کی اجازت ہے مثلاً چرواہے کو بکریاں چرانے کوایک روپیہ ماہوار پر رکھا مگر یہ نہیں کہا ہے کہ دوسرے کی بکریاں نہ چرانا تویہ بھی اجیر مشترک ہے اور اگر یہ طے ہو جائے کہ دوسرے کی بکریاں نہیں چرائے گا تو اجیر خاص ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲: اجیر مشترک میں اجارہ کا تعلق کام سے ہے لہٰذا وہ متعدداشخاص کے کام لے سکتا ہے اور اجیر خاص میں اُس مدت کے منافع کا ایک شخص کو مالک کرچکا لہٰذا دوسرے سے عقد نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۳: اجیر مشترک اُجرت کا اُس وقت مستحق ہے جب کام کرچکے مثلاًدرزی نے کپڑے کے سینے میں سارا وقت صرف کردیا مگر کپڑا سی کر طیار نہیں کیا یا اپنے مکان پر سینے کے لیے تم نے اُسے مقرر کیا تھا دن بھر تمھارے یہاں رہامگر کپڑا نہیں سیا اُجرت کا مستحق نہیں ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۴: جو کام ایسا ہے کہ محل کے مختلف ہونے سے اُس میں اختلاف ہوتا ہے یعنی بعض میں محنت کم ہے بعض میں زائدایسے کاموں میں اجیر مشترک کو خیار رویت حاصل ہوتا ہے دیکھنے کے بعد کام کرنے سے انکار کرسکتا ہے مثلاًدھوبی سے ٹھہرا یاکہ گزی (5)کا ایک تھان ایک آنہ(6)میں دھوئے گا اُس نے تھان دیکھ کر دھونے سے انکار کردیا یہ ہوسکتا ہے۔ یارنگریز سے رنگنا