Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
153 - 186
اور جب یہ دونوں باتیں نہ ہوں توفاسد ہے پھر مزارع (1)نے کاشت کی اور مدت پوری ہوگئی تویہ اجارہ صحیح ہوگیا اور جو اُجرت مقرر ہوئی تھی دینی ہوگی اوراگر مدت پوری نہ ہوئی تو اجر مثل واجب ہوگا اور کاشت کرنے سے پہلے دونوں میں نزاع (2)پیدا ہوجائے تو اجارہ فسخ کردیا جائے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ۵۱: شکار کرنے کے ليے یا جنگل سے لکڑیا ں کاٹنے کے ليے اجیر کیا اگر وقت مقرر کردیا ہے جائز ہے اور وقت مقرر نہیں کیا ہے نا جائز ہے اور شکار اور لکڑیا ں اس صورت میں اسی اجیر کی ہیں۔ اور اگر وقت مقرر نہیں کیا ہے مگر لکڑیاں معین کردی ہیں یعنی بتادیا ہے کہ ان لکڑیوں کو کاٹو تو اجارہ فاسد ہے لکڑیا ں مستاجرکی(4)ہوں گی اور اُس کے ذمہ اُجرت مثل واجب ہوگی۔(5) (درمختار، عالمگیری) 

    مسئلہ۵۲: جن لکڑیوں کے کاٹنے کے ليے اجیر کیا ہے وہ خود اسی مستاجر کی ملک ہیں تو اجارہ جائز ہے۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵۳: بی بی کو گھر کی روٹی پکانے کے ليے نوکر رکھا کہ روٹی پکائے ماہوار یا یومیہ اتنی اُجرت دوں گا یہ اجارہ نا جائز ہے وہ کسی اُجرت کی مستحق نہیں۔ یوہیں خانہ داری کے دوسرے کام جو عورتیں کیا کرتی ہیں ان کی اُجرت نہیں لے سکتی کہ یہ کام اُس پر دیانۃً خود ہی واجب ہیں۔ (7)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ۵۴: عورت نے اپنا مملوکہ مکان شوہرکوکرایہ پر دیا عورت بھی اُس مکان میں شوہر کے ساتھ رہتی ہے شوہر کے ذمہ کرایہ واجب ہوگا کہ عورت کی سکونت(8)اُس میں تبعاًہے۔(9) (درمختار) 

    مسئلہ۵۵: جو اجارہ استہلاکِ عین پر ہوکہ مستاجر عین شے لے لے وہ اجارہ نا جائز ہے مثلاً گائے بھینس کو اجارہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔کاشتکار۔    2۔۔۔۔۔۔جھگڑا۔

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:یخص القیاس...إلخ،ج۹،ص۱۰۲.

4۔۔۔۔۔۔یعنی اجیر رکھنے والے کی۔

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۱۰۵.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۵۱.

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۵۱.

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:یجب الأجر...إلخ،ج۹،ص۱۰۵.

8۔۔۔۔۔۔رہائش۔

9۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۱۰۶.
Flag Counter