Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
145 - 186
    مسئلہ ۲۰: طبلِ غازی(1)کہ اس سے لہو مقصود نہیں ہوتا جائز ہے اور اس کا اجارہ بھی جائز اسی طرح شادیوں میں دف بجانے کی اجازت ہے جس میں جھانج نہ ہوں اس کا اجارہ بھی ناجائز نہیں۔ (2)(ردالمحتار)اس زمانہ میں ملاہی کے اجارات بکثرت پائے جاتے ہیں جیسے سنیما ،بائیسکوپ تھیٹر میں ملازمین گانے اور تماشے کرنے کے ليے نوکررکھے جاتے ہیں یہ اجارے ناجائز ہیں بلکہ تماشا دیکھنے والے اپنے تماشا دیکھنے کی اُجرت دیتے ہیں یعنی اُجرت دے کر تماشا کراتے ہیں یہ بھی ناجائز یعنی تماشا دیکھنا یا تماشاکرنا تو گناہ کاکام ہے ہی پیسے دے کرتماشے کرانا یہ ایک دوسر اگناہ ہے اور حرام کام میں پیسہ صرف کرنا ہے۔ 

    مسئلہ۲۱: مسلمان نے کسی کافر کورہنے کے ليے مکان کرایہ پر دیا یہ اجارہ جائز ہے کوئی حرج نہیں۔ اب اُس گھر میں کافر نے شراب پی یاصلیب کی پرستش کی یہ اُس کافر کا ذاتی فعل ہے اس سے اُس مسلمان پر گناہ نہیں ہاں اگر اُس مکان میں کافر نے گھنٹہ(3)اور ناقوس(4)بجایا یا سنکھ(5)پھونکا یا علانیہ شراب بیچنا شروع کیا توضرور ان امور سے روکا جائے گا۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ۲۲: کسبی عورتوں کو(7)بازاروں میں بالا خانے کرایہ پر دینا کہ وہ اُن میں ناچ مجرا کریں یا زنا کرائیں، یہ ناجائز ہے۔ 

    مسئلہ۲۳: طاعت وعبادت کے کاموں پراجارہ کرنا جائز نہیں مثلاً اذان کہنے کے ليے امامت کے ليے قرآن وفقہ کی تعلیم کے ليے حج کے ليے یعنی اس ليے اجیر کیاکہ کسی کی طرف سے حج کرے۔ متقد مین فقہاکایہی مسلک تھا مگر متأخرین نے دیکھا کہ دِین کے کاموں میں سستی پیداہوگئی ہے اگر اِس اجارہ کی سب صورتوں کوناجائز کہا جائے تو دِین کے بہت سے کاموں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی جنگ کے موقعے پر جو نقارہ بجایا جاتاہے۔

2۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الاجارۃ،باب الإجارۃالفاسدۃ،مطلب فی الإستئجارعلی المعاصی،ج۹،ص۹۲.

3۔۔۔۔۔۔کسی دھات کاتوا وغیرہ جسے موگری سے بجاتے ہیں۔    

4۔۔۔۔۔۔وہ سنکھ جو ہندو یا دوسرے غیر مسلم پوجا کے وقت بجاتے ہیں۔

5۔۔۔۔۔۔ایک قسم کا بڑا ناقوس جو مندروں میں بجایا جاتاہے۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ، الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۵۰.

7۔۔۔۔۔۔یعنی طوائفوں کو۔
Flag Counter