Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
142 - 186
    مسئلہ ۷: جانور کرایہ پر لیا اور یہ شرط ہے کہ اس کو دانہ گھاس مستاجردے گایہ اجارہ فاسد ہے کہ جانور کا چارہ مالک کے ذمہ ہے اور مستاجر کے ذمہ کرنا مقتضائے عقد کے خلاف ہے۔ یوہیں مکان کرایہ پر دیا اور شرط یہ ہے کہ اس کی مرمت مستاجر کے ذمہ ہے یا مکان کا ٹیکس مستاجر کے ذمہ ہے یہ اجارہ بھی فاسد ہے کہ ان چیزوں کا تعلق مالک سے ہے مستاجر کے ذمہ شرط کرنا مقتضائے عقد کے خلاف ہے۔ (1)(درمختار) 

    مسئلہ ۸: جوچیز اجارہ پردی ہے وہ شائع ہے اس سے بھی اجارہ فاسد ہوجاتاہے مثلاًاس مکان کانصف حصہ کرایہ پر دیا کہ نصف مکان جزوشائع ہے یاایک مکان مشترک ہے اس نے اپنا حصہ غیر شریک کو کرایہ پر دیایامکان میں تین شخص شریک ہیں اس نے اپناحصہ ایک شریک کو کرایہ پر دیاسب صورتیں ناجائز ہیں اور اجارہ فاسد ہے۔(2)(درمختار)

    مسئلہ ۹: اگر اجارہ کے وقت شیوع نہ تھا بعد میں آگیا تو اس سے اجارہ فاسد نہیں ہوگا مثلاًپورا مکان اجارہ پر دیا تھا پھر اُس کے ایک جزو شائع میں فسخ کردیا اِس شیوع سے اجارہ فاسد نہیں ہوا۔(3) (درمختار) 

    مسئلہ۱۰: جو چیز اُجرت میں ذکر کی گئی وہ مجہول ہے مثلاً اس کام کی اُجرت ایک کپڑا ہے یا اس میں بعض مجہول ہے مثلاً اتنا کرایہ اور مکان کی مرمت تمھارے ذمہ کہ اس صورت میں مرمت بھی کرایہ میں داخل ہے اور چونکہ معلوم نہیں مرمت میں کیا صرف ہوگا لہٰذا پورا کرایہ مجہول ہوگیا۔ (4)(درمختار)
 (اجارہ کے اوقات)
    مسئلہ ۱۱: اجارہ کی میعاد اگر یکم تاریخ سے شروع ہوتی ہو تومہینہ میں چاند کا اعتبار ہوگا یعنی دوسراچاند ہو گیا مہینہ پورا ہوگیا اور اگر درمیان ماہ سے مدت شروع ہوتی ہے تو تیس دن کا مہینہ لیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کئی ماہ کے لیے مکان یا کوئی چیز کرایہ پر لی تو پہلی صورت میں چاند سے چاند تک اور دوسری صورت میں ہر مہینہ تیس تیس دن کالیا جائے گا بلکہ ایک سال کے لیے یا کئی سال کے لیے کرایہ پر لیا تو پہلی صورت میں ہلال(چاند)کے بارہ ماہ اور دوسری صورت میں تین سو ساٹھ دن کا سال شمار ہوگا۔(5) (عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۷۸.

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۷۹. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۷۹.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۸۰.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثالث فی الأوقات...إلخ،ج۴،ص۴۱۵،۴۱۶.
Flag Counter