دودھ پلایا ہے اُس کی اُجرتِ مثل ملے گی اور اگر سال بھرکے لیے اس شرط کے ساتھ مقررکیا کہ صرف پہلے مہینہ کے مقابل میں یہ سوروپے ہیں اور اس کے بعد سے سال کی بقیہ مدت میں مفت پلائے گی یہ اجارہ بھی فاسد ہے اگر دو ڈھائی مہینہ دودھ پلانے کے بعد بچہ مرگیا تو اُجرتِ مثل دی جائے گی جو اس مقرر شدہ سے زائدنہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مسلمان نے بچہ کے دودھ پلانے کے لیے کسی کافرہ کو مقرر کیایا ایسی عورت کو مقررکیا جو صحیح النسب نہ ہویہ جائز ہے یعنی اجارہ صحیح ہے۔(2)(عالمگیری)مگر تجربہ سے یہ امر ثابت کہ دودھ کااثر بچہ میں ضرور پیدا ہوتا ہے اور شرع مطہر نے بھی اس سے انکار نہیں کیا ہے بلکہ دودھ کی وجہ سے رشتہ قائم ہوجانا قرآن سے ثابت اور حدیث نے بھی بتایا کہ رضاعت سے ویساہی رشتہ پیدا ہوجاتا ہے جس طرح نسب سے ہوتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دودھ کے بھی اثرات ہوتے ہیں لہٰذا د ودھ پلانے کے لیے جو عورت اختیار کی جائے اُس کے صلاح وتقویٰ کالحاظ کیا جائے تاکہ بچہ میں بدعورت کے بُرے اثرات نہ پیداہوں۔ دوسراامر یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ دایہ کی صحبت میں بچہ رہتا ہے اور بچہ کی تربیت دایہ کے ذمہ ہوتی ہے اور تربیت وصحبت کے بداثرات کا انکار بدیہی(3)بات کاانکار ہے اور بچپن میں جوخرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں اُن کازائل ہونا نہایت دشوار ہوتا ہے لہٰذا ان کونظر انداز کرنا مصالح کے خلاف(4) ہے اگرچہ اجارہ صحیح ہوجائے گا۔
مسئلہ ۲۵: بچہ کودودھ پلانے کے لیے بکری کواجارہ پرلیا یابکری کابچہ ہے اس کو دودھ پلانے کے لیے بکری کو اجارہ پرلیا یہ ناجائز ہے۔ (5)(عالمگیری)