Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
139 - 186
    مسئلہ ۱۷: حاجت کے وقت دایہ یہاں سے وقتاًفوقتاًجاسکتی ہے مگر دیر دیر تک باہرنہیں رہ سکتی اس سے اُس کو روک دیا جائے گاکہ یہ بچہ کے لیے مضر ہے۔(1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۸: بچہ کی ماں کو دودھ پلانے کے لیے اُجرت پر مقرر کیااس کی دوصوتیں ہیں اگر وہ نکاح میں ہے تو یہ اجارہ ناجائز ہے اور طلاق دینے کے بعد یہ اجارہ ہوا اور طلاق بھی رجعی ہے تو یہ اجارہ بھی ناجائز ہے اور طلاق بائن کے بعد اجارہ ہواتوجائز ہے اور اگروہ بچہ اس شخص کادوسری عورت سے ہے تواپنی اُس عورت سے جو اس بچہ کی ماں نہیں ہے اُجرت پر دودھ پلواسکتاہے۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۹: بچہ کی ماں کو دودھ پلانے کے لیے اُجرت پر رکھا اُس نے کسی سے نکاح کرلیا تواس کی وجہ سے اجارہ فسخ نہیں ہوگا۔ (3)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۰: اپنے محارم میں سے کسی عورت کو دودھ پلانے کے لیے اجیر رکھناجائز ہے مثلاً اپنی ماں یا بہن یالڑکی کواپنے بچہ کے دودھ پلانے کے لیے مقرر کیا۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۱: کہیں سے پڑا ہوابچہ اُٹھالایا اور اس کے لیے دایہ مقرر کی تو دایہ کی اُجرت خود اسی پرواجب ہوگی اور یہ شخص مُتَبَرِّع(5)ہے کہ اس کو رجوع نہیں کرسکتا۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۲: یتیم بچہ کے لیے مال ہو تو رضاع کے مصارف(7)اُس کے اپنے مال سے دیے جائیں اور مال نہ ہوتو جس کے ذمہ اُس کانفقہ(8)ہو اُسی کے ذمہ یہ بھی ہیں اور اگر کوئی ایسا شخص بھی نہ ہوجس پراس کانفقہ واجب ہوتو بیت المال سے دیے جائیں۔(9) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۳: دایہ کو سوروپے پرایک سال دودھ پلانے کے لیے مقررکیا اور یہ شرط کرلی کہ بچہ اثنا ء سال میں(10)مرجائے گا جب بھی اُس کو سوہی دیے جائیں گے اس شرط کی وجہ سے اجارہ فاسد ہوگیالہٰذا اگربچہ مرگیا تو جتنے دنوں اُس نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۳.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۴۳۴.    3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

5۔۔۔۔۔۔یعنی احسان کرنے والا۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۴.

7۔۔۔۔۔۔دودھ پلانے کے اخراجات۔    8۔۔۔۔۔۔کھانے پینے،کپڑے،رہائش وغیرہ کے اخراجات۔

9۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۴.

10۔۔۔۔۔۔دورانِ سال ۔
Flag Counter