مسئلہ ۱۱: دایہ نے بکری کا دودھ بچہ کوپلادیا یا اُسے غذا کھلائی یعنی اپنا دودھ پلانے کی جگہ یہ کیا تو اُجرت کی مستحق نہیں ہوگی کہ اُس کا اصلی کام دودھ پلانا ہے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۲: دایہ نے اپنی خادمہ سے دودھ پلوایا یاکسی دوسری عورت کو اِس بچہ کے دودھ پلانے کے لیے نوکر رکھا اس نے دودھ پلایا اِس صورت میں اُجرت کی مستحق ہوگی کہ دوسری عورت کا اس کے حکم سے دودھ پلانا گویا اسی کا پلانا ہے مگر جبکہ اس کو نوکر رکھتے وقت یہ شرط ہو کہ خو دتجھی کو دودھ پلانا ہوگا تو دوسری عورت کا نہیں پلواسکتی اور ایسا کرے گی تواُجرت کی مستحق نہیں ہوگی۔ (2)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۳: ایک جگہ بچہ کو دودھ پلانے کی نوکری کی اور ان لوگوں کی لاعلمی میں اُس نے دوسری جگہ بھی بچہ کودودھ پلانے کی نوکری کرلی اور دونوں بچوں کو تا اختتامِ مدت دودھ پلاتی رہی اُس کوایساکرنا ناجائز وگناہ ہے مگر دونوں جگہ سے اپنی پوری اُجرت جو مقرر ہوئی ہے لینے کی مستحق ہے یہ نہیں ہوگا کہ دونوں نصف نصف اُجرت دیں۔ ہاں اگر ناغے کیے ہیں تو ان دنوں کی اُجرت کم کی جاسکتی ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص کے دوبچے ہیں دونوں کو دودھ پلانے کے لیے ایک دایہ کو نوکر رکھا ان میں سے ایک بچہ مرگیا تو دایہ اب سے نصف اُجرت کی مستحق ہوگی کہ جو بچہ مرگیا اُ سکے حق میں اجارہ بھی نہ رہا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: دایہ کے ذمہ یہ نہیں ہے کہ بچہ کے والدین کاکام کرے بطور تبرع واحسان کردے تو اُس کی خوشی اس عقد کی وجہ سے اُس پرلازم نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: دایہ کے عزیز واقارب اُس سے ملنے کو آئیں توصاحبِ خانہ اُ ن کویہاں ٹھہرنے سے منع کرسکتا ہے۔ یوہیں بغیر اجازتِ صاحب خانہ اُن لوگوں کو یہاں کا کھانا بھی نہیں کھلاسکتی اور یہ اپنے عزیزوں کے یہاں جاناچاہتی ہو تو جانے سے منع کرسکتے ہیں جبکہ اس کا جانا بچہ کے لیے مضر ہو۔ (6)(عالمگیری)