ایک بوری جَوْ لادنا جائز ہے کہ یہ اُس سے زیادہ آسان اور ہلکا ہے اور ایک بوری نمک لادنا جائزنہیں کہ نمک گیہوں سے زیادہ وزنی ہوتا ہے اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ عقد کے ذریعہ سے جب کسی خاص منفعت کا استحقاق ہو(1)تو وہ یا اُس کی مثل یا اُس سے کم درجہ کا حاصل کرنا جائز ہے اور زیادہ حاصل کرنا جائزنہیں مثلاً ایک من گیہوں لادنے کی اجازت ہے توایک من جَولاد سکتا ہے اور ایک من روئی یا لوہایا پتھر یا لکڑی نہیں لادسکتا یاایک من روئی لادنے کے لیے کرایہ پرلیا اور ایک من گیہوں لادا یہ بھی جائز نہیں۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۳۱: جانور سواری کے لیے کرایہ پرلیا اُس پر خود سوارہوااور ایک دوسرے شخص کواپنے پیچھے بٹھالیا اگر دوسراایسا ہے کہ اپنے آپ سواری پر رُک سکتا ہے اور جانور ہلاک ہوگیاتونصف قیمت تاوان دے اس میں یہ نہیں لحاظ کیا جائے گاکہ اس کے سوار ہونے سے کتنا بوجھ زیادہ ہوااور یہ نہیں کہا جائے گاکہ قیمت کو دونوں کے وزن پر تقسیم کرکے دوسرے کے وزن کے مقابل میں قیمت کا جو حصہ آئے وہ تاوان میں واجب ہو بلکہ نصف قیمت تاوان میں مطلقاًواجب ہوگی اور اگر اُس شخص نے اپنے پیچھے کسی بچہ کوبٹھالیا ہے جو خود اُس پررک نہیں سکتا اور جانور ہلاک ہوگیا تو تاوان صرف اُتنا ہوگاجتنا اس کے سوار کرنے سے وزن میں اضافہ ہوا۔ یہ تفصیل اُس صورت میں ہے کہ جانور دونوں کو اُٹھاسکتا ہواور اگر جانور میں اتنی طاقت نہ ہوکہ دونوں کو اُٹھاسکے توہرصورت میں پوری قیمت کا تاوان دینا ہوگا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: گھوڑے کی گردن پر دوسرا آدمی بیٹھ گیااور جانور ہلاک ہوگیا تو پوری قیمت کاتاوان دے اور اگر جانور پر خود سوار ہواا ور کوئی چیز بھی لادلی اگرچہ یہ چیز مالک ہی کی ہوجبکہ اُس کی اجازت سے نہ لادی ہو اور جانور ہلاک ہوگیا تو وزن میں جتنا اضافہ ہوااُس کاتاوان دے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: اِس صورت میں کہ اپنے پیچھے دوسرے کو سوار کیا اگروہ جانور منزلِ مقصود تک پہنچ کر ہلاک ہواپوری اُجرت بھی دینی ہوگی اور تاوان بھی دینا پڑے گا اور اگر جانور سلامت رہاہلاک نہ ہوا تو صرف اُجرت ہی دینی ہوگی۔ پھر ضمان کی سب صورتوں میں مالک کو اختیار ہے کہ مستاجر سے ضمان لے یا اُس سے جو اُسکے ساتھ سوار ہوا ہے اگرمستاجر سے لیا تووہ اپنے ساتھی سے رجوع نہیں کرسکتا اور دوسرے سے لیا تو دوصورتیں ہیں اگر مستاجر نے اُس کوکرایہ پر سوار کیاہے تویہ مستاجر سے رجوع