ہے کہ کون استعمال کریگا جیسے خیمہ کہ اسے کون نصب کریگا اور کس جگہ نصب کیا جائے گااور اس کی میخیں کون گاڑے گاان باتوں میں حالات مختلف ہیں۔ (1)(درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۲۵: خیمہ کی طنابین(2)مالک کے ذمہ ہیں جس نے کرایہ پردیا ہے اور اس کی میخیں مستاجر یعنی کرایہ دارکے ذمہ ہیں۔(3) (طحطاوی)
مسئلہ ۲۶: چھولداری(4)یا خیمہ دھوپ یا مینھ (5)میں بغیر اجازت مالک نصب کیا اور خراب ہوگیا تاوان دینا ہوگا اور اس صورت میں اُجرت نہیں اوراگر سلامت ہے تو اُجرت واجب ہوگی۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: خیمہ کے سایہ میں دوسرے لوگ بھی آرام لے سکتے ہیں مالک یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم نے دوسرے کو اس کے نیچے کیوں بیٹھنے دیا۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: خیمہ کی چوبیں(8)یا رسیاں ٹوٹ گئیں کہ نصب نہیں ہوسکاکرایہ واجب نہ ہوا۔ (9)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: جن چیزوں کے استعمال میں اختلاف نہ ہواُن میں یہ قید لگانا کہ فلاں شخص استعمال کرے بیکار ہے جس کومتعین کردیا ہے وہ بھی استعمال کرسکتا ہے اور دوسرابھی استعمال کرسکتا ہے مثلاًمکان میں یہ شرط لگانا کہ اس میں تم خود رہنا دوسرے کو نہ رہنے دینا یاتم تنہا رہنا یہ شرطیں باطل ہیں۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: اگراجارہ میں ایک نوع یاکسی خاص مقدارکی قید لگائی ہے اس کی مثل یا اس سے مفیداستعمال جائز ہے اور اس سے مضر استعمال کی اجازت نہیں مثلاً ایک بوری گیہوں لادنے کے لیے جانور کو کرایہ پرلیا ایک بوری سے کم گیہوں یا