کرسکتا ہے اور مفت بٹھایا ہے تو نہیں۔ (1)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۳۴: جانور کو بوجھ لادنے کے لیے کرایہ پرلیا اور جتنا لادنا ٹھہرا تھااُس سے زیادہ لاددیا تو جتنا زیادہ لاداہے اُس کا تاوان دے مثلاً دومن ٹھہراتھا اس نے تین من لاد دیا جانور کی ایک تہائی قیمت تاوان دے یہ اُس صورت میں ہے کہ اس نے خود لاد اہواور اگرجانور کے مالک نے زیادہ لاداتو تاوان نہیں اور اگر دونوں نے مل کر لادا تو نصف تاوان یہ دے اور نصف جومالک کے فعل کے مقابل میں ہے ساقط۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے لیے اونٹ کرایہ پر لیے جاتے ہیں اُن پر عموماًدوشخص سوار ہوتے ہیں اور اپنا سامان بھی لادتے ہیں اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ اُتنا ہی سامان لادیں جو متعارف ہے اُس سے زیادہ نہ لادیں اور اُس میں بھی بہتر یہ ہے کہ اپنا پورا سامان جمّال کو(3)دکھادیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: جانور کے مالک کویہ حق نہیں ہے کہ جانور کو کرایہ پردینے کے بعد مستاجر کے ساتھ کچھ اپنا سامان بھی لاددے مگر اُس نے اپنا سامان رکھ دیا اور جانور منزلِ مقصود تک پہنچ گیا تو مستاجر کو پورا کرایہ دینا ہوگا یہ نہ ہوگا کہ چونکہ اُس نے اپنا سامان بھی رکھ دیا ہے لہٰذا کرایہ سے اُس کی مقدار کم کی جائے۔ اور مکان میں یہ صورت ہوکہ مالک مکان نے ایک حصہ مکان میں اپنا سامان رکھاتو پورے کرایہ سے اُس حصہ کے کرایہ کی کمی کر دی جائے گی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳۷: ہل جوتنے کے لیے بیل کرایہ پرلیا ایک بیگہہ(6)جو تنا ٹھہرا تھا اُس نے ڈیڑھ بیگہہ جوت لیا اور بیل ہلاک ہوگیا پوری قیمت کاتاوان دینا ہوگا۔ یوہیں چکی چلانے کے لیے بیل کرایہ پر لیا جتنے من پیسنا قرار پایا اُس سے زیادہ پیسا اور بیل ہلاک ہواپوری قیمت کا تاوان دینا ہوگا ان دونوں صورتوں میں صرف زیادتی کے مقابل میں تاوان نہیں بلکہ پورا تاوان ہے۔ (7)(ردالمحتار)