مسئلہ ۷: مستاجر نے مکان یا دکان کو کرایہ پر دیدیا اگر اُتنے ہی کرایہ پردیا ہے جتنے میں خو دلیا تھا یاکم پر جب تو خیر اور زائد پر دیا ہے تو جوکچھ زیادہ ہے اُسے صدقہ کردے ہاں اگرمکان میں اصلاح کی ہو اُسے ٹھیک ٹھاک کیا ہو تو زائد کا صدقہ کرنا ضرور نہیں یاکرایہ کی جنس بدل گئی مثلاًلیا تھا روپے پردیا ہو اشرفی پر اب بھی زیادتی جائز ہے۔ جھاڑودیکر مکان کو صاف کرلینایہ اصلاح نہیں ہے کہ زیادہ والی رقم جائز ہوجائے اصلاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو عمارت کے ساتھ قائم ہو مثلاًپلاستر کرایا یا مونڈیر بنوائی۔ خود مالک مکان کو مستاجر نے مکان کرایہ پر دیدیا قبضہ کے بعد ایسا کیا یا قبضہ سے قبل یہ جائز نہیں بلکہ اجارہ ہی فسخ ہو جائے گا۔(1) (بحر)مگر صحیح یہ ہے کہ اجارہ فسخ نہیں ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: زمین کو زراعت(3)کے لیے اُجرت پر دینا جائز ہے جبکہ یہ بیان ہو جائے کہ اُس میں کیا چیز بوئی جائے گی یا مزارع سے یہ کہہ دے کہ جو تو چاہے بولیا کر ،اگر ان چیزوں کا بیان نہیں ہوگا تو منازعت ہوگی(4)کیونکہ زمین کبھی زراعت کے لیے اجارہ پر دی جاتی ہے کبھی دوسرے کام کے لیے اور زراعت سب چیزوں کی ایک قسم نہیں کہ بیان کرنے کی حاجت نہ ہو بعض چیزوں کی زراعت زمین کے لیے مفید ہوتی ہے اور بعض کی مضر ہوتی ہے اگر ان چیزوں کوبیان نہیں کیاگیا تو اجارہ فاسد ہے مگر جبکہ اُس نے زراعت بودی تو اب صحیح ہوگیا کہ کام کرلینے سے وہ جہالت جو پید ا ہوگئی تھی جاتی رہی اور مستاجر پر اُجرت واجب ہوگئی۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: زراعت کے لیے کھیت لیا تو آمدورفت کاراستہ (6)اور پانی جہاں سے آتا ہے اور جس راستے سے آتا ہے یہ سب چیزیں مستاجر کو بغیر شرط بھی ملیں گی کیونکہ یہ نہ ہوں تو زراعت ہی ناممکن ہے اور کھیت بیع لیا(7)تویہ چیزیں بغیر شرط داخل نہیں۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: کھیت ایک سال کے لیے لیا تو سال کی دونوں فصلیں ربیع(9)وخریف(10)اُس میں بو سکتا ہے اگر اس