وقت زراعت نہیں ہوسکتی کیونکہ پانی نہیں ہے مگر مدت کے اندر زراعت ہوسکتی ہے لگان واجب ہے ورنہ نہیں۔ (1)(درمختار)اوروہ زمین جو پانی سے دور ہونے کی وجہ سے زراعت کے قابل نہیں اس کو یا بنجر زمین کو کاشت کے لیے اجارہ پر لینا درست نہیں۔ (2)(طحطاوی)
مسئلہ ۱۱: زمین زراعت کے لیے اجارہ پر دی اور زراعت کو کوئی آفت پہنچی مثلاً کھیت پانی سے ڈوب گیا تو جو حصہ لگان کا آفت پہنچنے سے پہلے کاہے وہ دینا ہوگا اور آفت پہنچنے کے بعد کا جو حصہ ہے وہ ساقط جبکہ دوسری زراعت کاموقع نہ رہے اور اگر پھر کھیت بوسکتا ہے تو لگان ساقط نہیں اگرچہ کھیت نہ بویا کہ یہ اُس کااپنا قصور ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: زمین میں دوسرے کی زراعت لگی ہوئی ہے اور جس نے کھیت بویا ہے جائز طورپربویا ہے مثلاً اُس کے پاس کھیت عاریت ہے یا اُس نے اجارہ پر لیا ہے اگرچہ یہ اجارہ فاسد ہی ہو یہ زمین دوسرے کو اجارہ پر دینا جائز نہیں، اور اگر اجارہ پر دیدی اور فصل کٹ گئی اور مالک زمین نے نئے مزارع (4)کو زمین دیدی تو اجارہ صحیح ہوگیا ہاں ایک شخص نے جائز طورپر بویاتھااور فصل کٹنے کے وقت دوسرے کو دیدی یہ اجارہ جائز ہے مزارع اول سے کہا جائے گاکھیت کاٹ لے پھر یہ کھیت مزارع دوم کو دیدیاجائے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اجارہ کو زمانہ مستقبل کی طرف مضاف کیا مثلاًفلاں مہینہ سے یہ کھیت تم کو اتنے لگان پردیا جبکہ معلوم ہو کہ اُ سوقت تک کھیت خالی ہوجائے گامثلاً بیساکھ(5)سے یا جیٹھ(6)سے یہ صورت مطلقاًجائز ہے مزارع اول نے جائز طورپر بویا ہویا نا جائز طورپر۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ اُس کھیت کو بونے والے نے ناجائز طورپر بویا ہو مالک نے دوسرے کو اجارہ پر دیدیا یہ اجارہ جائز ہے کیونکہ مزارع کویہ کھیت دیدینا ممکن کہ ہے جس نے بویا ہے اُ سکو مجبور کیاجائے گاکہ اپنی زراعت فوراًکاٹ لے طیارہویا نہ ہو۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مکان اجارہ پر دیا کچھ خالی ہے کچھ مشغول ہے اجارہ صحیح ہے مگر جو حصہ مشغول ہے اُس کی نسبت کہا جائے گاکہ خالی کرکے مستاجر کے حوالہ کردے اور اگر خالی کرنے میں ضررہو مثلاًکھیت اجارہ پر دیا ہے اس کے کچھ حصہ میں زراعت ہے