کے لیے مضر(1)ہو تو بلا شرط یا بغیر اجازتِمالک جائز نہیں، پن چکی(2)یا مشین کی چکی یا جانور وں کی چکی کے لیے اجازت ضروری ہے کہ یہ عمارت کے لیے مضر ہیں۔ (3)(بحر، درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۴: کرایہ دار کرایہ کے مکان یا دکان میں لوہار اور دھوبی اور چکی والے کو نہیں رکھ سکتا یعنی یہ لوگ اُسی مکان میں اپنا کام کریں مثلاًدھوبی اُسی مکان میں کپڑا دھوئے یہ بغیر اجازتِ مالک درست نہیں اور کرایہ دار خودبھی یہ کام بغیر اجازتِ مالک نہیں کرسکتااور اگر اجارہ ہی میں ان چیزوں کاکرنا طے پاگیا ہے تو کرنا جائز ہے۔ (4)(درمختار)اور اگر دھوبی مکان میں کپڑا نہیں دھوتا بلکہ تالاب سے کپڑا دھو کر لاتا ہے اور مکان میں کلپ دیتا ہے(5)استری کرتا ہے تو حرج نہیں کہ اس سے عمارت پر اثر نہیں پڑتا۔
مسئلہ ۵: مالک اور کرایہ دار میں اختلاف ہوا کہ ان چیزوں کا کرنا اجارہ میں مشروط تھا یا نہیں اس میں مالک کا قول معتبر ہے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کیے تو مستاجر (6)کے گواہ مقبول اور اصل اجارہ ہی میں اختلاف ہو جب بھی یہی صورت ہے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۶: مستاجر نے ایک کام کو معین کیا تھا کہ یہ کروں گااگر اس کا مثل یااوس سے کم درجہ کا فعل کرے اس کی اجازت ہے مثلاً لوہاری کے کام(8)کے لیے مکان لیا تھا اور اس میں کپڑے دھونے کاکام کرتا ہے اگر دونوں سے عمارت کایکساں نقصان ہے یا کپڑا دھونے میں کم نقصان ہے کرسکتا ہے۔ ایسا کام کیا جس کی اجازت نہ تھی کرایہ دینا ہوگا اور اگر مکان گرپڑاتوکرایہ نہیں بلکہ مکان کاتاوان دینا ہو گا۔(9) (درمختار)یعنی مکان کا کرایہ نہیں دینا ہوگا مگر زمین کا کرایہ دینا ہوگا۔(10) (ردالمحتار)