مسئلہ ۴۳: اجیر سے کہہ دیا تم اتنی اُجرت پر میرا یہ کام کردو یہ اجارہ مطلق کی صورت ہے اور اگر یہ کہے تم اپنے ہاتھ سے کرویا تم خود کرو تو مقید ہے اب دوسرے سے کرانا جائز نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: ایک شخص کو اجیر مقرر کیا کہ میری عیال کو فلاں جگہ سے لے آؤ وہ لینے گیا مگر اُن میں سے بعض کا انتقال ہوگیا جو باقی تھے اُنھیں لے آیا اگر دونوں کو تعداد معلوم تھی تو اُجرت اُسی حساب سے ملے گی یعنی مثلاًچار بچے تھے اور اُجرت چارروپے تھی تین کو لایا تو تین روپے پائے گا اور اگر تعداد معلوم نہیں تھی تو پوری اُجرت پائے گا اور اگر گیااور وہاں سے کسی کو نہیں لایاتو کچھ بھی اُجرت نہیں ملے گی کہ کام کیا ہی نہیں پہلی صورت میں حساب سے اُجرت ملنا اُس صورت میں ہے کہ اُنکے کم، زیادہ ہونے سے محنت میں کمی بیشی ہو مثلاًچھوٹے چھوٹے بچے ہیں کہ گود میں لانا ہوگا زیادہ ہوں گے تکلیف زیادہ ہوگی کم ہوں گے تکلیف کم ہوگی اور اگر کم زیادہ ہونے سے اس کی محنت میں کمی بیشی نہیں ہوگی مثلاًکشتی کرایہ پرلی ہے کہ اُس میں سب کوسوار کرکے لاؤ اگر سب آئیں گے یا بعض آئیں گے دونوں صورتوں میں محنت یکساں ہے اس صورت میں پوری اُجرت ملے گی اوراگر بچوں کے لانے کا مطلب یہ ہے کہ اجیر اُن کے ساتھ ساتھ آئے گا سواری کا خرچ مستاجر کے ذمہ ہے مثلاً کہہ دیا ریل پر یاتانگہ گاڑی پر سوار کرکے لاؤ یا وہ جگہ قریب ہے سب پیدل چلے آئیں گے اس کو صرف ساتھ رہنا ہوگا یا جگہ دور ہے مگروہ سب بڑے ہیں پیدل چلے آئیں گے اس کی محنت میں اُن کے کم وبیش ہونے سے کوئی فرق نہیں تو پوری اُجرت پائے گا۔(2)(درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۴۵: ایک شخص کو اجیر کیا کہ فلاں جگہ فلاں شخص کے پاس میرا خط لے جاؤ اور وہاں سے جواب لاؤ اگریہ خط لے کر نہیں گیا اُجرت کا مستحق نہیں ہے کہ صرف جانے آنے کے لیے اُس نے اجیر نہیں کیاتھا جب اُس نے کام نہیں کیا اُجرت کس چیز کی لے گا اور اگر وہاں خط لیکر گیا مگر مکتوب الیہ(3)کا انتقال ہوگیا تھا خط واپس لایا اس صورت میں بھی اُجرت کا مستحق نہیں اور اگر خط واپس نہیں لایا بلکہ وہیں چھوڑ آیا تو جانے کی اُجرت پائے گاآنے کی نہیں۔ اور اگر مکتوب الیہ وہاں سے کہیں چلا گیا ہے جب بھی یہی صورتیں ہیں۔ اسی طرح اگر مٹھائی وغیرہ کوئی کھانے کی چیز بھیجی تھی جس کے پاس بھیجی تھی وہ مرگیا یا کہیں چلاگیا یہ واپس لایا جب بھی مزدوری کا مستحق نہیں۔(4) (درمختار، طحطاوی)