Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
121 - 186
    مسئلہ ۴۶: متولی وقف نے(1)وقف کی جائداد کو اُجرتِ مثل سے کم پر دیدیا مستاجر(2)پراُجرتِ مثل واجب ہے۔ یوہیں نابالغ کے باپ یا وصی نے اس کی جائداد کوکم کرایہ پر دیدیا اُس مستاجرپر اُجرت مثل واجب ہے۔(3) (درمختار) 

    مسئلہ ۴۷: ایک مکان خریدا کچھ دنوں اُس میں رہنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مکان وقف ہے یا کسی یتیم کا ہے مکان تو واپس کرناہی ہوگا جتنے دنوں اُس میں رہا ہے اُس کا کرایہ بھی دینا ہوگا۔ (4)(طحطاوی) 

    مسئلہ ۴۸: مکان کرایہ پر لیا تھا اور اس کی اُجرت پیشگی دیدی تھی مگر مالک مکان مرگیا لہٰذا اجارہ فسخ ہوگیا کرایہ جو پیشگی دے چکا ہے اُس کے وصول کرنے کے لیے کرایہ دار کو مکان روک لینے کا حق نہیں اور اگر مالک مکان پر دین تھا اور مرگیا دین ادا کرنے کے لیے مکان فروخت کیا گیا تو، بہ نسبت دوسرے قرض خواہوں کے یہ اپنا زر پیشگی(5) وصول کرنے میں زیادہ حقدار ہے یعنی یہ اپنا پورا روپیہ ثمن سے وصول کرلے اس کے بعد کچھ بچے تو دوسرے قرض خواہ اپنے اپنے حصہ کے موافق اُس سے لے سکتے ہیں اور کچھ نہیں بچا تو اس ثمن سے لینے کے حقدار نہیں۔(6) (طحطاوی) 

    مسئلہ ۴۹: مستاجر نے اُجرت زیادہ کردی مثلاًپانچ روپیہ ماہوار کرایہ کامکان تھا کرایہ دار نے چھ روپے کردیے اگر اندرونِ مدت یہ اضافہ ہے تواصل عقد کے ساتھ لاحق ہوجائے گا جیسے بیع میں ثمن کا اضافہ اور اگر مدت پوری ہونے کے بعد اضافہ کیا جب بھی زیادہ دینا جائز ہے یعنی یہ ایک احسان ہے عقد باقی نہیں رہا اُس کے ساتھ کیوں کرلاحق ہوگا۔ اور آجر یعنی مثلاًمالک مکان نے اُس شے میں اضافہ کردیا جو کرایہ پر تھی مثلاًپہلے ایک مکان تھا اب اُسی کرایہ میں دوسرا مکان بھی دیدیا یہ بھی جائز ہے اور اگر یتیم یاوقف کا مکان ہے تو اس کی اُجرتِ مثل لی جائے گی۔ (7)(درمختار، طحطاوی) 

    مسئلہ۵۰: درخت خریدا اور چار پانچ برس تک کاٹا نہیں اب یہ درخت پہلے سے بڑا اور موٹا ہوگیا مالک زمین کہتا ہے تم نے اتنے دنوں تک درخت چھوڑرکھا اس کا کرایہ ادا کرو اس مدت کا کرایہ نہیں لے سکتا۔ (8)(عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مال وقف کی نگرانی کرنے والے نے۔        2۔۔۔۔۔۔کرایہ دار۔

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۵،۳۶.

4۔۔۔۔۔۔''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۲.

5۔۔۔۔۔۔ایڈوانس۔

6۔۔۔۔۔۔''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۲،۱۳.

7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۷.

و''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۳.

8۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ ...إلخ،ج۴،ص۴۱۴.
Flag Counter