Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
119 - 186
چیز کو کشتی پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچادیتا ہے یاجس نے کپڑے کو پاک کرنے کے لیے دھویا اُس کو سپید نہیں کیا یہ لوگ اُجرت وصول کرنے کے لیے چیز کو روک نہیں سکتے اگر روکیں گے غاصب قرار پائیں گے اور ضمان دینا ہوگا اور مالک کو اختیار ہے عمل کرنے کے بعد جو قیمت ہوئی اُس کا تاوان لے اور اِس صورت میں اُجرت دینی ہوگی اور چاہے تو وہ قیمت تاوان میں لے جو عمل کے بغیر ہے اور اس وقت اُجرت نہیں ملے گی۔ (1)(درمختار) 

    مسئلہ۴۰: اجیر(2)کے پاس چیز ہلاک ہوگئی مگر نہ تو اُس کے فعل سے ہلاک ہوئی اور نہ اُجرت لینے کے لیے اُس نے چیز روکی تھی اور اجیر وہ ہے جس کے عمل کا اثر پیدا ہوتا ہے جیسے خیاط(3)و رنگریز تو ان کی اُجرت نہیں ملے گی اور اگر عمل کا اثر نہیں پیدا ہوتا جیسے حمال تو اسے اُجرت ملے گی۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ۴۱: جس سے کام کرانا ہے اگر اُس سے یہ شرط کرلی ہے کہ تم کو خود کرنا ہوگا یاکہہ دیا کہ تم اپنے ہاتھ سے کرنا اس صورت میں خود اُسی کو کرناضروری ہے اپنے شاگردیا کسی دوسرے شخص سے کام کرانا جائز نہیں اور کرادیاتو اُجرت واجب نہیں اس صورت میں سے دایہ کا استثنا(5)ہے کہ وہ دوسری سے بھی کام لے سکتی ہے۔ اور اگر یہ شرط نہیں ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کریگادوسرے سے بھی کراسکتا ہے اپنے شاگرد سے کرائے یا نوکر سے کرائے یا دوسرے سے اُجرت پر کرائے سب صورتیں جائز ہیں۔ (6)(بحر ، درمختار) 

    مسئلہ ۴۲: اجارہ مطلق تھا یعنی خود اُس کا ریگر کے اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی شرط نہیں تھی کاریگرنے دوسرے کو بغیر اُجرت چیز سپرد کردی یعنی دوسرے کو کام کرنے کے لیے دیدی جو اجیر نہیں ہے اور وہاں سے چیز ضائع ہوگئی تو اجیر پر ضمان واجب ہے اور اگر یہ دوسرا شخص پہلے کا اجیر ہے مثلاًدرزی کو کپڑاسینے کے لیے دیا درزی نے دوسرے کو اُجرت پر سینے کے لیے دیا اور ضائع ہوگیا تو تاوان واجب نہیں نہ اول پر نہ دوسرے پر۔(7) (بحر)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۰،۳۱.

2۔۔۔۔۔۔مزدور۔    3۔۔۔۔۔۔درزی۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ،ج۴،ص۴۱۴۔۴۱۵.

5۔۔۔۔۔۔یعنی دایہ اس حکم سے خارج ہے ۔

6۔۔۔۔۔۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ، ج۷، ص۵۱۶.

و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۱.

7۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۶.
Flag Counter