کچھ روٹیا ں پکائی ہیں کچھ باقی ہیں تو جتنی پکا چکا ہے حساب کرکے انکی پکوائی لے سکتا ہے یہ اُس صورت میں ہے کہ مستاجر یعنی پکوانے والے کے مکان پر اُس نے روٹی پکائی اور اگر پکنے کے بعد یعنی تنور سے نکالنے کے بعد بغیر اس کے فعل کے کوئی روٹی تنور میں گرگئی اور جل گئی تو اس کی اُجرت منھا نہیں کی جاسکتی کہ تنور سے نکال کر رکھنے کے بعد اُجرت کا حقدار ہوچکا ہے اور اس روٹی کا اس سے تاوان بھی نہیں لیا جاسکتا کہ اِس نے خود نقصان نہیں کیا ہے اور اگر تنور سے نکالنے کے پہلے ہی جل گئی تو اس کی اُجرت نہیں ملے گی بلکہ تاوان دینا ہوگا یعنی اس روٹی کا جتنا آٹا تھا وہ تاوان دے اور اگر روٹی پکوانے والے کے یہاں نہیں پکائی ہے خواہ نانبائی نے اپنے گھر پکائی یا دوسرے کے مکان پر اور روٹی جل جائے یا چوری ہو جائے بہر حال اُجرت کا مستحق نہیں ہے کہ اس کے لیے تسلیم یعنی مستاجر کے قبضہ میں دینے کی ضرورت ہے پھر اگر چوری ہوگئی تو نانبائی پر تاوان نہیں کیوں کہ آٹا اس کے پا س امانت تھا جس میں تاوان نہیں ہوتا اور اگر جل گئی ہے تو تاوان دینا ہوگا کہ اس کے فعل سے نقصان ہوااور مالک کو اختیار ہے کہ روٹی کا تاوان لے یا آٹے کا اگر روٹی کاتاوان لے گا تو پکوائی دینی ہوگی اور آٹالے تو نہیں۔ لکڑی ،نمک، پانی ان میں سے کسی کاتاوان نہیں۔(1) (بحر، درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۳۱: باور چی جوگوشت یا پلاؤ وغیرہ پکاتاہے اگر یہ کھانا اُس نے دعوت کے موقع پر پکایا ہے ولیمہ کی دعوت ہو یا ختنہ کی یا چھٹی کی یا عقیقہ کی یا قرآن مجید ختم کرنے کی، غرض کسی قسم کی دعوت ہو اس میں اُجرت کا اُس وقت مستحق ہوگا جب سالن وغیرہ برتنوں میں نکال دے اور گھر کے لوگوں کے لیے پکایا ہے تو کھانا طیار کرنے پر اُجرت کاحقدار ہوگیا۔ (2)(درمختار، بحر)مگر یہ وہاں کا عرف ہے کہ باور چی ہی کھانا نکالتے ہیں ہندوستان میں عموماًیہ طریقہ ہے کہ باور چی طیار کردیتے ہیں جس نے دعوت کی اُس کے عزیز واقارب دوست احباب کھانا نکالتے ہیں کھلاتے ہیں باور چی سے اس کام کاکوئی تعلق نہیں رہتا لہٰذا یہاں کے عرف کے لحاظ سے کھانا طیار کرنے پر مزدوری کامستحق ہو جائے گانکالنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۳۲: باور چی نے کھانا خراب کردیا یا جلادیا یا کچا ہی اوتار دیا اُسے کھانے کا ضمان دینا ہوگا۔ اور اگر آگ لے کر چلاکہ چولھا جلائے یا تنور روشن کرے چنگاری اوڑی اور مکان میں آگ لگ گئی مکان جل گیا اس کا تاوان دینا نہیں