ہوگا کہ اس میں اُس کے فعل کو دخل نہیں اِسی طرح کرایہ دار سے اگر مکان جل جائے تو تاوان نہیں کہ اُس نے قصداً ایسا نہیں کیا ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۳۳: اینٹ تھاپنے والا اُجرت کا اُس وقت مستحق ہے جب اینٹ اُس نے کھڑی کردی اس کے بعد اگر اینٹوں کا نقصان ہوا تو مالک کا ہوااس کا نہیں اور اگر اس سے پہلے نقصان ہواتو اسی کا ہواکہ ابھی تک یہ اُجرت کا مستحق نہیں ہے یہ قول امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کاہے۔ صاحبین (2)یہ فرماتے ہیں کہ اُجرت کامستحق اُس وقت ہوگا جب اینٹوں کا چٹالگادے(3)اسی پر فتوےٰ ہے۔ (4)(درمختار)یہاں کے عرف سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ چٹا لگانے کے بعد اُجرت ملے کیونکہ چٹا لگانا بھی انھیں تھاپنے والوں کاکام ہوتاہے نہ اس کے لیے دوسرے مزدور رکھے جاتے ہیں نہ خود ان کو چٹالگانے کی اُجرت دی جاتی ہے بلکہ جہاں تک دیکھا گیا ہے یہی معلوم ہوا کہ اینٹوں کا شمار ہی اُس وقت کرتے ہیں جب چٹا لگ جائے پہلے ہی سے اُجر ت کیا دی جائے گی۔
مسئلہ ۳۴: اینٹ تھاپنے کا سانچا (5)تھپیر ے(6)کے ذمہ ہے کہ یہ اُس کے کام کا آلہ ہے جیسے درزی کے لیے سوئی ، بڑھئی(7) کے لیے بسولا (8)وغیرہ ہر قسم کے اوزار، مٹی اور ریتا مستاجر کے ذمہ ہے۔ مکان کے اندر غلہ پہنچادینا حمال(9)کا کام ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ دروازہ تک میں نے پہنچا دیا اندر نہیں لے جاؤں گا۔ چھت یادوسری منزل پر لیجانا حمال کا کام نہیں ہے جب تک اُس سے شرط نہ کرلیں وہ اوپر لیجانے سے انکار کرسکتا ہے۔ مٹکے ،گولی (10) اور برتنوں میں غلہ بھر ناحمال کا کام نہیں جب تک اس کی شرط نہ ہو۔ اونٹ یا گھوڑا یا کوئی جانور غلہ لادنے کے لیے کرایہ پرلیا تو غلہ لادنااور اوتارنا جانور والے کے ذمہ ہے اور مکان کے اندر پہنچانا اس کے ذمہ نہیں مگر جبکہ اس کی شرط ہو یاوہاں کا یہی عرف ہو۔(11) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۳۵: بیل گاڑی بہت سی چیزیں لادنے کے لیے کرایہ کرتے ہیں گاڑی والے کے ذمہ وہاں تک پہنچادینا ہے جہاں تک گاڑی جاتی ہو اُس کے بعد مالک کے ذمہ ہے مگر جبکہ یہ شرط ہو کہ مکان کے اندر پہنچانا ہوگا یا وہاں کاعرف ہو جس طرح