Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
115 - 186
نے سوت سے انکار کیاپھر اقرار کیا اور انکار سے قبل بُن چکا ہے اُجرت ملے گی اور انکار کے بعد بُنا ہے تو کپڑا اِسی بننے والے کا ہے اور سوت والے کو اُتنا ہی سوت دے۔(1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۶: درزی نے مستاجر کے گھر پر کپڑا سیا تو کام کرنے پر اُجرت واجب ہو جائے گی مالک کو سپرد کرنے کی ضرورت نہیں کہ جب اُس کے مکان پر ہی کام کررہا ہے تو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں یہ خودہی تسلیم کے حکم میں ہے لہٰذا کپڑا سی رہا تھا چوری ہوگیا اُجرت کا مستحق ہے بلکہ اگر کچھ سیا تھاکچھ باقی تھا یعنی مثلاً پورا کرتہ سیا بھی نہیں تھا کہ جاتا رہا جتنا سی لیا تھا اُس کی اُجرت واجب ہے۔(2) (طحطاوی) 

    مسئلہ ۲۷: مزدور دیوار بنارہا ہے کچھ بنانے کے بعد گرگئی توجتنی بنا چکا ہے اُس کی اُجرت واجب ہوگئی۔ درزی نے کپڑا سیا تھا مگر کسی نے یہ سلائی توڑدی سلائی نہیں ملے گی ہاں جس نے توڑی ہے اُس سے تاوان لے سکتا ہے اور اب دوبارہ سینا بھی درزی پر واجب نہیں کہ کام کرچکا اور اگر خود درزی ہی نے سلائی توڑدی تو دوبارہ سینا واجب ہے گویا اُس نے کام کیا ہی نہیں۔(3) (بحر) 

    مسئلہ ۲۸: درزی نے کپڑا قطع کیا اور سیا نہیں بغیر سیے مرگیا قطع کرنے کی کچھ اُجرت نہیں دی جائے گی کہ عادۃًسلائی کی اُجرت دیتے ہیں قطع کرنے کی اُجرت نہیں دی جاتی ہاں اگر اصل مقصود درزی سے کپڑا قطع کرانا ہی ہے سلوانا نہیں ہے تو اس کی اُجرت بھی ہوسکتی ہے۔ (4)(طحطاوی، بحر) 

    مسئلہ۲۹: دھوبی کو دھونے کے لیے کپڑے دیے اور دُھلائی کا تذکرہ نہیں ہوا کہ کیا ہوگی اُجرت مثل واجب ہوگی کیونکہ اُس کاکام ہی یہ ہے کہ اُجرت پر کپڑا دھوتا ہے۔(5) (بحر) 

    مسئلہ۳۰: نانبائی(6)اس وقت اُجرت لینے کا حقدار ہوگا جب روٹی تنور سے نکال لے کہ اب اُس کا کام ختم ہوااور اگر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ،ج۴،ص۴۱۴.

2۔۔۔۔۔۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۹.

3۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۲،۵۱۳.

4۔۔۔۔۔۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۹.

و''البحر الرائق''، کتاب الإجارۃ، ج۷،ص۵۱۳.

5۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۳.

6۔۔۔۔۔۔روٹی پکانے والا۔
Flag Counter