Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
114 - 186
    مسئلہ ۲۳: اِجارہ اگر مطلق ہے اُس میں یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ اُجرت کب دی جائے گی تو مکان اور زمین کا کرایہ روزانہ وصول کرسکتا ہے اور سواری کا ہر منزل پر مثلاًیہ ٹھہرا ہے کہ ہم کو یہاں سے فلاں جگہ جانا ہے اُس کا یہ کرایہ ہے مگریہ نہیں طے ہوا ہے کہ کرایہ پہنچ کر دیاجائے گا یا کب تو ہر منزل پر حساب سے جو کرایہ ہوتا ہے وصول کرسکتا ہے مگر سواری والایہ نہیں کہہ سکتا کہ میں آگے نہیں جاؤں گا جہاں تک ٹھہرا ہے وہاں تک پہنچا نا اُس پر لازم ہے اور اگر بیان کردیا گیا ہے کہ اتنے دنوں میں کرایہ لیا جائے گا مثلاًعموماًمکان کے کرایہ میں یہ ہوتا ہے کہ طے ہوجاتا ہے کہ ماہ بماہ کرایہ دینا ہوگا تو ہر روز یا ہر ہفتہ میں مطالبہ نہیں کرسکتا۔(1) (درمختار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۴: درزی دھوبی سونا روغیر ہم ان کا ریگر وں نے جب کام کرلیا اور مالک کو چیز سپرد کردی اُجرت لینے کے مستحق ہوگئے یہی حکم ہر اُس کام کرنے والے کا ہے جس کے کام کا اُس شے میں کوئی اثر ہو جیسے رنگریز(2)کہ اُس نے کپڑارنگ کر مالک کو دیدیا اُجرت کا مستحق ہوگیا اوراگر ان لوگوں نے کام تو کیا مگر ابھی تک چیز مالک کو سپرد نہیں کی، اُجرت کے مستحق نہیں ہوئے لہٰذا اگر ان کے یہاں چیز ضائع ہوگئی اُجرت نہیں پائیں گے اگرچہ چیز کا ان کو تاوان بھی دینا نہیں پڑے گا۔ اور اگر کام کا کوئی اثر اُس چیز میں نہیں ہوتا جیسے حمال(3)کہ چیز کویہاں سے اُٹھا کر وہاں لے گیایہ اُجرت کے اُس وقت مستحق ہوں گے جب اُنھوں نے کام کرلیا اس کی ضرورت نہیں کہ مالک کو سپرد کردیں جب استحقاق ہو لہٰذا وہاں پہنچا دینے کے بعد اگر چیز ضائع ہوگئی اُجرت واجب ہے۔(4) (درمختار)بلکہ اگر حمال نے پہنچایا نہ ہو راستہ ہی میں اُجرت مانگتا ہے تو یہاں تک کی جتنی اُجرت حساب سے ہو لے سکتا ہے مگر جہاں تک ٹھہراہے اُس پر وہاں تک پہنچانا لازم ہے اور پہنچانے پر باقی اُجرت کا مستحق ہے۔ (5)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۵: دھوبی نے کہا تمھارا کپڑا میں نے دھونے کے لیے لیا ہی نہیں ہے اس کے بعد کپڑے کا اقرار کرلیا اگر انکار سے پہلے دھو چکا ہے دھلائی کا مستحق ہے اور انکار کے بعد دھویا تو دھلائی کا مستحق نہیں اور رنگریز نے کپڑے سے انکار کردیا پھر اقرارکیا اگر انکار سے پہلے رنگ چکا ہے اُجرت کا مستحق ہے اور انکار کے بعد رنگاتو مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا لے لے اور رنگ کی وجہ سے جو کچھ کپڑے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے وہ دیدے اور چاہے تو سفید کپڑے کی قیمت تاوان لے۔ ا ور کپڑا بننے والے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۴.

و''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الإجارۃ، الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ، ج۴، ص۴۱۳.

2۔۔۔۔۔۔کپڑے رنگنے والا۔    3۔۔۔۔۔۔بوجھ اٹھانے والا مزدور۔

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۴،۲۵.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ،ج۴،ص۴۱۳.
Flag Counter