| بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14) |
نہیں دیں گے اور اگر اُجرت کا تقررنہیں ہوا ہے تو اُجرت مثل واجب ہے اُس کی مقدار جو کچھ ہو۔(1) (طحطاوی)
مسئلہ۱۹: زمینِ وقف اور زمینِ یتیم اور جو جائداد کرایہ پر چلانے کے لیے ہے ان کا بھی یہی حکم ہے کہ محض اِنتفاع پر قادر ہونے سے اجارہ فاسد ہ میں اُجرت واجب نہیں ہوگی بلکہ حقیقۃً اِنتفاع ضروری ہے یعنی وقف کی زمین زراعت کے لیے بطور اجارہ فاسدہ لی اگر زراعت کریگا اُجرت واجب ہوگی ورنہ نہیں۔ یوہیں یتیم کی زمین زراعت کے لیے لی یا مکان کرایہ پر رہنے کے لیے بطور اجارہ فاسدہ لیا یا جائداد کرایہ پر چلانے کے لیے ہے اس کو اجارہ ئفاسدہ کے طور پر لیا ان سب میں بھی جب تک منفعت حاصل نہ کرے اُجرت واجب نہیں محض قادر ہونا اُجرت کو واجب نہیں کرتا۔ (2)(طحطاوی)
مسئلہ۲۰: جس چیز کوکرایہ پرلیا تھا اُس کو کسی نے غصب کرلیا کہ یہ انتفاع پر قادر نہیں ہے مگرسفارش کے ذریعہ سے وہ چیز غاصب سے نکال سکتا ہے یا لوگوں کی حمایت سے غاصب کو جدا کرسکتا ہے اور اس نے ایسا نہیں کیا اُجرت ساقط نہیں ہوگی اور اگر غاصب کو اس وجہ سے نہیں نکالا کہ علیٰحدہ کرنے میں کچھ خرچ کرنا پڑے گا تو اُجرت ساقط ہے۔ (3)(درمختار، طحطاوی) مسئلہ ۲۱: موجر(4)اور مستاجر(5)میں اختلاف ہوا موجرکہتا ہے کسی نے غصب نہیں کیا اور مستاجر کہتا ہے غصب کیا اگر مستاجر کے پاس گواہ نہیں ہیں تو یہ دیکھا جائے گا کہ فی الحال کیا ہے اگر فی الحال مکان میں مستاجر سکونت پذیر ہے تو موجر کی بات مانی جائے گی اور اُجرت دلائی جائے گی اوراگر مستاجرکے سواکوئی دوسرا ساکن ہے تومستاجر کی بات مقبول ہے اُجرت واجب نہیں۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۲۲: مالک مکان نے مکان کی کنجی مستاجر کو دیدی مگر کنجی ا س کے پا س سے جاتی رہی اگر مکان کو بلا تکلُّف کھول سکتا ہے اور نہیں کھولا اُجرت واجب ہے ورنہ نہیں اور اگر مستاجر اس کنجی سے قفل(7)نہیں کھول سکتا ہے مکان کا تسلیم کردینا اور قبضہ دینا نہیں پایا گیا اور اُجرت واجب نہیں۔ (8)(درمختار)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۷. 2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. 3۔۔۔۔۔۔''الدر المختار''، کتاب الإجارۃ، ج۹، ص۲۰،۲۱. و''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۸. 4۔۔۔۔۔۔ کرایہ پر دینے والا،مالک۔ 5۔۔۔۔۔۔کرایہ پر لینے والا۔ 6۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۲. 7۔۔۔۔۔۔تالا۔ 8۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۳.